ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ (WDF) کی صدر اور عوامی ورکرز پارٹی (AWP) کی ڈپٹی جنرل سیکریٹری عصمت رِضا شاہجہاں جو ایک سوشلسٹ، فیمینسٹ اور سیاسی رہنماء ہیں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ میں بحیثیتِ پشتون، کشمیری قوم سے معافی مانگتی ہوں کہ ریاست نے پشتون قوم کے نام پر اپنے استعماری مہروں اور مخصوص قبائلی سہولت کاروں کے ذریعے 1947–48 میں بعض قبائلی لشکر کشمیر بھیجے، جن سے کشمیری عوام، ان کی سرزمین اور ان کی جدوجہد کو نقصان پہنچا۔ یہ لشکر پشتون قوم کی اجتماعی سیاسی رضامندی یا قومی شعور کی نمائندگی نہیں کرتے تھے؛ یہ ریاستی منصوبے کا حصہ تھے۔
انہوں نے کہا کہ میں یہ بھی سمجھتی ہوں کہ کسی بھی حکمران، لشکر، ریاست یا جنگی منصوبے کے عمل کو کسی پوری قوم کے سر نہیں ڈالا جا سکتا۔ جس طرح کسی قوم کے عام لوگوں کو ریاستی جرائم کا ذمہ دار ٹھہرانا غلط ہے، اسی طرح ریاستی جرائم کو قوموں کے نام پر چھپانا بھی غلط ہے۔ ہمارا اصول واضح ہے: ہم محکوم قوموں کے ساتھ یکجہتی رکھتے ہیں؛ اور کالونائزر قوموں، ان کے ریاستی ڈھانچوں، جنگی منصوبوں، آبادکار مفادات، انتخابی سازشوں اور مفاد یافتہ سماجی طبقوں کے خلاف سیاسی مزاحمت کو اپنا حق بھی سمجھتے ہیں اور فرض بھی۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے سیاسی آبا و اجداد کے موقف کے تسلسل میں کشمیری قوم کے حقِ خودارادیت، قومی حقوق اور جاری مزاحمت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہوں، اور مزحمت کاروں پر جاری بربریت، قتل عام اور ریاستی جبر کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہوں۔ اور پشتون قوم کے اندر ہر حلقے سے بھی اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس بار ریاستی بیانیے سے دور رہے، کشمیریوں کے وقار، آزادی اور حقوق کی جدوجہد کی حمایت کرے، اور کسی بھی محکوم قوم کے خلاف ریاستی انتقام اور استعماری بدلے کی سیاست کا حصہ نہ بنے۔
آخر میں عصمت رضا شاہجہاں نے کہا کہ کسی قوم کو ریاستی جرائم کا پردہ نہ بننے دیں، اور نہ ہی کسی محکوم قوم کو کسی دوسری محکوم قوم کے خلاف استعمال ہونے دیں۔
Share this content:


