کشمیر میں کریک ڈاؤن اور میڈیا پابندیوں پر تشویش، مختلف حلقوں کا ردعمل سامنے آگیا

راولاکوٹ / کاشگل نیوز

پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں گزشتہ کئی روز سے جاری احتجاجی صورتحال اور حکومت کی جانب سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد خطے کی مجموعی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ریاست بھر میں سکیورٹی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں جبکہ متعدد مقامات پر چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق مظفرآباد، راولاکوٹ، میرپور، کوٹلی اور باغ سمیت مختلف اضلاع میں سیاسی، سماجی اور تاجر تنظیموں سے وابستہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ بعض خاندانوں کا دعویٰ ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد کے بارے میں انہیں مکمل معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں، جبکہ بعض حلقوں نے دورانِ حراست مبینہ تشدد کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔

دوسری جانب انسانی حقوق اور سول سوسائٹی سے وابستہ بعض نمائندوں نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مطالبات کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے ۔

علاقے میں میڈیا کی آزادی کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مقامی صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل ڈیٹا سروسز کی معطلی کے باعث معلومات کے تبادلے اور خبروں کی تصدیق کے عمل میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ بعض صحافیوں اور میڈیا تنظیموں نے خبروں کی کوریج پر غیر اعلانیہ پابندیوں کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔

کشمیر میڈیا فورم سماہنی اور دیگر صحافتی تنظیموں نے ایک بیان میں آزادیٔ صحافت کے تحفظ اور اطلاعات تک رسائی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ مسائل کے حل کے لیے مکالمے اور شفاف اطلاعات کی فراہمی ناگزیر ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق معاشی مطالبات سے شروع ہونے والی یہ تحریک اب سیاسی نوعیت اختیار کرتی جا رہی ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مختلف حلقوں نے حکومت اور احتجاجی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے مذاکرات اور سیاسی حل کی جانب پیش رفت کریں۔

Share this content: