یہ کشمیری بھی عجیب لوگ ہیں …. شعیب کیانی

اگر چاہیں تو اس ہجوم میں سے نکل کر چار چار آدمی بھی ایک ایک بندوقچی کو پکڑیں تو تعینات جوانوں کا بھوسہ بنا دیں، یہ چاہیں تو شہروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں، یہ چاہیں تو سپریم کورٹ، اسمبلی یا کسی بھی سرکاری عمارت پر چڑھ دوڑیں۔ لیکن یہ کہتے ہیں اداروں کے مسلح ملازمین ہمارے بھائی ہیں یہ عمارتیں اور شہر ہمارے اپنے ہیں۔

یہ کوئی عجیب ہی لوگ ہیں گولیاں کھاتے ہیں، لاشیں اٹھاتے ہیں، روتے ہیں، نعرہ لگا کر پھر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان پر غدار، ملک دشمن، خارجی، دہشتگرد، نمک حرام اور انڈین ایجنٹ کے الزام لگتے ہیں یہ تحمل سے آ کر مائیک پر اپنا موقف بیان کرتے ہیں اور پھر اپنی منزل کی طرف چل پڑتے ہیں۔

عجیب لوگ ہیں ،تھکتے بھی نہیں ،معاہدہ ہوتا ہے وعدے ہوتے ہیں چپ چاپ گھر چلے جاتے ہیں، وعدے پورے ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ جب مدت پوری ہوتی ہے تو وعدے یاد کرواتے ہیں جب کوئی نہیں سنتا یہ لوگ پھر اپنے کام کاج ایک طرف رکھتے ہیں دوکانیں اور گاڑیوں کو تالے لگاتے ہیں ماؤں سے دعائیں لیتے ہیں اور پھر احتجاج کے لیے نکل پڑتے ہیں۔

اتنے عجیب لوگ ہیں انہیں یاد ہی نہیں رہتا کہ ان میں سنی کون ہے شیعہ کون، وہابی کون ہے بریلوی کون، ملحد کون ہے مومن کون، راجا کون ہے سدھن کون، چوہدری کون ہے کمی کون، تاجر کون ہے کسان کون بس ایک دوسرے کے دست و بازو بن کر اس نظام کی دیوار کو دھکا دینے نکل پڑتے ہیں۔

ایک محلے سے ٹولی نکلتی ہے گاؤں کے بازار میں دیگر ٹولیوں میں شامل ہو کر کارواں بناتی ہے۔ یہ کارواں جس شہر میں پہنچتا ہے پورا شہر اس کی مہمان نوازی میں جت جاتا ہے۔ جہاں پڑاؤ کرتے ہیں کوئی کرسی نہیں ڈھونڈتا کوئی کنٹینر نہیں مانگتا جس کو جہاں جگہ ملے بیٹھ جاتا ہے۔ انہیں بس اتنا پتا ہے کہ نظام بدلے گا تو اگلی نسلیں بہتر زندگی گزار سکیں گی۔ انہیں پتا ہے کہ منتخب نمائندے الیکشن کے بعد صرف بند سڑکیں کھلوانے ہی عوام کے پاس آتے ہیں۔ انہیں پتا ہے کہ حکمران طبقہ بہرہ ہوتا ہے اسے سنانے کے لیے پوری ریاست کو مل کر دھاڑنا پڑتا ہے۔ انہیں پتا ہے کہ تحریکیں کیوں ناکام ہوتی ہیں اور کیسے کامیاب ہوتی ہیں۔

انہیں پتا ہے کب کہاں کیا کرنا ہے۔،انہیں پتا ہے کہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔

***

Share this content: