پاکستان فوج کے سابق کمانڈو اور جے کے ایل ایف کے کمانڈر فورسزکے ہاتھوں قتل

پاکستانی فوج کے سابق کمانڈو اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کےکمانڈرپاکستان زیر انتظام کشمیر میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔

واضح رہے کہ وہ عوامی تحریک میں شریک تھے ۔

پاکستان زیر انتظام کشمیر کے شہر راولاکوٹ کے مقامی صحافی اجمل شاہین کے مطابق جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے بانی اراکین میں شمار ہونے والے کمانڈر سردار محمد فاروق خان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جمعرات کو منگ ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 85 برس تھی۔

تاہم بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ عوامی تحریک میں شرکت کے دوران فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہوگئے تھے جنہیں پہلے منگ ہسپتال اور بعداز اں راولپنڈی منتقل کیا گیا تھا۔

کمانڈر فاروق 28 جولائی کو اس وقت فورسز کی فائرنگ کی زد میں آ گئے تھے جب لانگ مارچ کے قافلے راولاکوٹ میں داخل ہو رہے تھے۔ فائرنگ کے دوران انہیں دو گولیاں لگیں، جس کے بعد انہیں تشویشناک حالت میں منگ ہسپتال منتقل کیا گیا اور پھرمزید علاج کے لئے راولپنڈی شفٹ کیا گیا تھا جہاں وہ جانبر نہیں ہو سکے ۔

کمانڈر سردار محمد فاروق خان کا تعلق ضلع سدھنوتی کی تحصیل منگ سے تھا۔ وہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے بانی اراکین میں شامل تھے اور جے کے ایل ایف کے سربراہ مرحوم امان اللہ خان کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے۔

جب جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں مسلح جدوجہد کا آغاز کیا تو کمانڈر فاروق نوجوانوں کو عسکری تربیت دینے میں سرگرم رہے۔ ان کے اس کردار کا ذکر امان اللہ خان نے اپنی کتاب "جہدوجہدِ مسلسل” میں بھی کیا ہے۔

کمانڈر فاروق پاکستان آرمی کی اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) میں بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) میں شامل ہو گئے تھے۔

Share this content: