کاشگل نیوز رپورٹ
جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی (جے کے پی این پی) کی مرکزی کانگریس میں نئی قیادت کے انتخاب کا عمل ایک بار پھر اپنی انفرادیت اور سخت تنظیمی اصولوں کے باعث توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ پارٹی قواعد و ضوابط کے مطابق کوئی بھی رہنما یا کارکن خود کو کسی عہدے کے لیے نامزد نہیں کر سکتا، نہ ہی کسی کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے حق میں یا کسی دوسرے کے خلاف انتخابی مہم چلائے۔ قیادت کے انتخاب کا مکمل اختیار مرکزی کمیٹی کے پاس ہوتا ہے، جس کا انتخاب خود پارٹی کی مرکزی کانگریس کرتی ہے۔ یہ پورا عمل نہایت پیچیدہ اور طویل ہوتا ہے، جبکہ مرکزی کمیٹی کے فیصلے کو حتمی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں قوم پرست، ترقی پسند یا پاکستان کی حمایت یافتہ جماعتوں کے اندر عموماً قیادت کے انتخاب کا عمل روایتی جمہوری مقابلے کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جو اکثر گروہ بندی اور باہمی مفادات کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جے کے پی این پی اپنے تنظیمی ڈھانچے میں ایک مختلف ماڈل پر عمل پیرا نظر آتی ہے، جہاں کھلی انتخابی مہم یا ذاتی تشہیر کی گنجائش نہیں رکھی جاتی۔
ذرائع کے مطابق جے کے پی این پی کی حالیہ مرکزی کانگریس کے تنظیمی سیشن میں بھی اسی روایت کو برقرار رکھا گیا اور قیادت کے انتخاب کا عمل مکمل کیا گیا۔ کاشگل نیوز کو ملنے والی اندرونی معلومات کے مطابق نئی منتخب کابینہ کے ناموں کا اعلان کئی حلقوں کے لیے غیر متوقع ثابت ہوا، جس نے سیاسی مبصرین اور کارکنان کو حیران کر دیا۔
مزید برآں، جب کاشگل نیوز نے اس حوالے سے پارٹی کے سینئر رہنماؤں سے مؤقف جاننے کی کوشش کی تو بیشتر رہنماؤں نے اس معاملے پر بات کرنے سے گریز کیا، جس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ پارٹی کے اندرونی فیصلوں کو عوامی سطح پر زیر بحث لانے سے اجتناب کیا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جے کے پی این پی کا یہ منفرد طریقہ کار پارٹی کے داخلی نظم و ضبط کو مضبوط بناتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ نئی قیادت پارٹی کی پالیسیوں اور عوامی رابطوں کو کس سمت میں لے کر جاتی ہے۔
Share this content:


