پاکستانی کشمیر میں اظہارِ رائے پر قدغن؟ نوآبادیاتی قانون میں ترمیم نے صحافتی آزادی پر سوالات کھڑے کر دیے

کاشگل نیوز خصوصی رپورٹ

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ قانونی ترامیم نے اظہارِ رائے اور صحافتی آزادی کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین، صحافیوں اور مبصرین کے مطابق ان اقدامات نے نہ صرف معلومات تک رسائی کو محدود کیا ہے بلکہ صحافیوں کے لیے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کو بھی خطرناک بنا دیا ہے۔

تنقید کو جرم قرار دینے والی ترمیم:

ستمبر 2024 میں وزیر اعظم چوہدری انوارالحق کی قیادت میں قائم مخلوط حکومت نے برطانوی نوآبادیاتی دور کے قانون میں اہم ترمیم کی۔ اس ترمیم کے تحت صدر، وزیر اعظم، وزراء، اراکین اسمبلی اور سرکاری افسران پر تنقید کو جرم قرار دیا گیا۔

خلاف ورزی پر سات سال قید اور جرمانہ ممکن ہے:

دفعہ 505 میں نئی وضاحت شامل کر کے "کمیونٹی” کی تعریف میں حکومت اور ریاستی ادارے بھی شامل کر دیے گئے۔اس تبدیلی کے بعد حکومتی شخصیات یا اداروں پر تنقید قانونی خطرات سے خالی نہیں رہی۔

سیاسی اتحاد: حریف جماعتیں ایک پیج پر:

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس قانون کی منظوری کے لیے خطے کی بڑی سیاسی جماعتیں—پاکستان تحریک انصاف (فارورڈ بلاک)، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی—ایک ساتھ نظر آئیں۔

قائمہ کمیٹی میں شامل اہم شخصیات میں کرنل وقار نور،میاں وحید،اظہر صادق اور خواجہ فاروق شامل تھے، جنہوں نے متفقہ طور پر اس ترمیم کی حمایت کی، جس کے بعد اسمبلی نے اسے منظور کر لیا۔

عوامی تحریک کے بعد سخت اقدامات:

یہ قانون مئی 2024 کی عوامی تحریک کے چند ماہ بعد سامنے آیا، جس میں عوام نے حکومتی پالیسیوں کے خلاف بھرپور احتجاج کیا تھا۔

مبصرین کے مطابق یہ قانون حکومتی دباؤ اور خوف کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔آزادی اظہار کو محدود کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

صحافی برادری کی تشویش:

سینئر صحافی ذوالفقار علی کے مطابق "اطلاعات تک رسائی نہ ہونے کی صورت میں صحافیوں کے لیے اپنی خبروں کی تصدیق کرنا مشکل ہو جائے گا، جو ایک خطرناک صورتحال ہے۔”

مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے صحافی ندیم شاہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے مشاورت کا وعدہ کیا تھا تاہم اب تک کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا۔اسی طرح صحافی شجاعت میر نے بھی اس قانون پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

قانونی و جمہوری خدشات:

قانونی ماہرین اس ترمیم کو جمہوری اقدار کے منافی قرار دے رہے ہیں۔ ایک ماہر کے مطابق”نوآبادیاتی قوانین کو تنقید دبانے کے لیے استعمال کرنا فاشسٹ رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔”

ہتک عزت بل اور صدارتی آرڈیننس کا پس منظر:

یہ ترمیم ایک ایسے وقت میں کی گئی جب دسمبر 2023 میں پیش کیا گیا ہتک عزت بل صحافتی دباؤ کے باعث منظور نہ ہو سکا۔2024 میں صدارتی آرڈیننس بھی جاری کیا گیا، جسے عوامی ردعمل کے بعد مسترد کرنا پڑا۔

نتیجہ، آزادی صحافت پر بڑھتے بادل:

حالیہ قانون سازی نے آزاد کشمیر میں آزادی اظہار، صحافتی تحفظ اور جمہوری اقدار کے مستقبل پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔اگر معلومات تک رسائی محدود رہی اور تنقید کو جرم کے دائرے میں رکھا گیا، تو ماہرین کے مطابق نہ صرف میڈیا بلکہ مجموعی جمہوری عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

٭٭٭

Share this content: