کاشگل نیوز خصوصی رپورٹ
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کی تحصیل پٹہکہ کے علاقے نصیرآباد میں واقع وائلڈ لائف پارک، جو کبھی قدرتی حسن اور نایاب پرندوں و جانوروں کی وجہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز تھا، اب انتظامی غفلت کے باعث مسائل کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔
یہ پارک 1980 کی دہائی میں فیزنٹ بریڈنگ سنٹر کے طور پر قائم کیا گیا تھا، جہاں ابتدا میں فیزینٹ پرندوں کی افزائش نسل کے لیے محدود پیمانے پر کام کیا جاتا تھا۔ 2002 میں اس کی توسیع کے لیے باقاعدہ سکیم متعارف کروائی گئی، جبکہ 2005 کے تباہ کن زلزلے کے بعد پارک کو شدید نقصان پہنچا۔ بعد ازاں ERAA نے فنڈز فراہم کر کے اسے بحال کیا، اور 2021 میں اسے باقاعدہ وائلڈ لائف پارک کا درجہ دے دیا گیا۔
پارک میں اس وقت 100 سے زائد نایاب پرندے اور جنگلی جانور موجود ہیں، تاہم ان کی دیکھ بھال پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق 13 دسمبر 2022 کو ایک چیتا پنجرے میں داخل ہو کر تین نایاب ہرن ہلاک کر گیا، جبکہ 22 دسمبر 2025 کو مبینہ غفلت کے باعث ایک مارخور بھی ہلاک ہو گیا۔
محکمہ وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر نے مارخور کی موت کو دل کا دورہ قرار دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پارک میں موجود پرندے مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں اور اموات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
وائلڈ لائف کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پرندوں کی افزائش نسل میں مسلسل کمی آ رہی ہے، جس کی بڑی وجہ محکمانہ غفلت ہے۔
سیاحوں نے بھی پارک کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایک مقامی سیاح بلال احمد کے مطابق پرندے خوراک کی کمی کے باعث بے چینی کا شکار دکھائی دیتے ہیں اور خوراک کی تلاش میں پنجروں کے قریب آنے والوں کی طرف لپکتے ہیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ پارک میں عملے کی کمی، طبی سہولیات کا فقدان اور جانوروں کے لیے مناسب خوراک کی عدم فراہمی جیسے مسائل شدت اختیار کر چکے ہیں، جو نایاب جنگلی حیات کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔
ماہرین ماحولیات نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نصیرآباد وائلڈ لائف پارک سمیت دیگر وائلڈ لائف مراکز میں فوری طور پر معیاری دیکھ بھال، مؤثر ویٹرنری سہولیات اور پیشہ ورانہ انتظامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ قیمتی جنگلی حیات کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔
Share this content:


