تحریر: ذوالفقار علی
محکمہ خوراک نے 6 اپریل 2026 کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں گندم کی ترسیل کے لیے حاصل کی گئی ٹرانسپورٹیشن خدمات پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی مد میں ٹھیکیداروں کے ذمے 87 کروڑ 73 لاکھ 8 ہزار روپے سے زائد کی واجب الادا رقم معاف کردی۔
اس نوٹیفکیشن میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ محکمہ خوراک اور ٹھیکیداروں کو گندم کی ترسیل کے لیے ٹرانسپورٹیشن پر سیلز ٹیکس کے نفاذ کا علم اکاؤنٹنٹ جنرل کی طرف سے 21 اکتوبر 2022 کو موصول ہونے والے خط کے ذریعے ہوئی۔
محکمہ خوراک کے نوٹیفکیشن کے مطابق، چونکہ مالی سال 2022-2023 کے لیے گندم کی ترسیل کے ٹینڈرز جون 2022 میں طلب کیے گئے تھے اس لیے ٹھیکے پرانے طریقے کار کے مطابق طلب کیے گیے تھے جس کی وجہ سے مالی سال 2022-23 کے دوران ٹھیکیداروں سے جی ایس ٹی کی کٹوتی نہیں کی گئی لیکن یہ دعویٰ حقیقت کے برعکس ہے۔
15 اپریل کو محکمہ خوراک کے سیکریٹری نے ایک حکم جاری کیا جس میں انہوں نے میرپور ڈویژن کے پانچ ٹھیکیداروں کے بلوں سے کٹوتی کی گئی جی ایس ٹی کی رقم 2 کروڑ 35 لاکھ 1 ہزار 4 سو روپے واپس کرنے کی منظوری دی۔ یہ رقم جولائی 2022 سے ستمبر 2023 تک کٹوتی کی گئی تھی۔ اسی طرح کے احکامات پونچھ اور مظفرآباد ڈویژن کے لیے بھی جاری کیے گئے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اب محکمہ خوراک یہ کہتا ہے ان کو21 اکتوبر 2022 کو جی ایس ٹی کے نفاذ کے بارے میں علم ہوا لیکن دستاویزات کے مطابق ٹھیکیداروں کے بلوں سے جی ایس ٹی جولائی 2022 سے کٹوتی ہوتی رہی ہے۔
یہ بات واضح کرتی ہے کہ محکمہ خوراک کو پہلے سے ہی سیلز ٹیکس کے نفاذ کا علم تھا۔26 فروری 2026 کو محکمہ خوراک کی جانب سے محکمہ ان لینڈ ریونیو کو فراہم کی گئی معلومات کی بنیاد پر سیکریٹری ان لینڈ ریونیو نے محکمہ خوراک کو ایک خط لکھا جس میں کہاکہ : "اگر یہ ثابت ہو جائے کہ محکمہ خوراک نے سروسز پر سیلز ٹیکس وصول نہیں کیا، کیونکہ یہ ایک مستند محکمانہ عمل تھا جسے نیک نیتی سے اپنایا گیا تھا، تو پھر سیکشن 65 کے تحت جولائی 2019 سے 21 اکتوبر 2022 تک سیلز ٹیکس معاف کیا جا سکتا ہے۔”
دستاویزات کے مطابق، محکمہ خوراک نے جولائی 2019 سے جون 2022 تک نہ تو یہ ٹیکس ٹھیکیداروں سے وصول کیا اور نہ ہی ان کے بلوں سے کٹوتی کی۔ لیکن محکمہ خوراک نے نہ صرف ان تین سالوں کا ٹیکس معاف کیا بلکہ جولائی 2022 سے ستمبر 2023 تک پندرہ ماہ کا بھی ٹیکس معاف کیا، جو اس نے وصول کیا تھا، اور وہ رقم اب ٹھیکیداروں کو واپس کی جا رہی ہے۔
محکمہ خوراک نے ان لینڈ ریونیو کے سیکریٹری کے خط کو بھی نظر انداز کیا جس میں کہا گیا تھا کہ جولائی 2019 سے اکتوبر 2022 تک ٹیکس معاف کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ تجویز اس لیے دی تھی کہ محکمہ خوراک نے یہ موقف اختیار کیا کہ انہیں اکتوبر 2022 میں جنرل سیلز ٹیکس کے بارے میں علم ہوا تھا، جو دستاویزات کی روشنی میں غلط ثابت ہوتا ہے۔
محکمہ خوراک نے وصول کیا گیا ٹیکس خزانے میں اس لیے جمع نہیں کرایا تھا کیونکہ مقدمہ عدالت میں تھا۔ ٹیکس معاف کیے جانے کے بعد ٹھیکیداروں نے ہائی کورٹ سے اب مقدمہ واپس لے لیا۔
محکمہ خوراک کے حکام ٹیکس معاف کرنے کے لیے 10 نومبر 2023 کو تشکیل دی گئی کابینہ کمیٹی کی سفارشات کا حوالہ دیتے ہیں، لیکن 17 نومبر 2025 کو ختم ہونے والی مخلوط حکومت نے دو سال کے عرصے میں یہ ٹیکس کیوں معاف نہیں کیا؟
ماضی میں اس معاملے پر سرکاری سطح پر تین تجاویز زیرِ غور آئیں۔ پہلی تجویز یہ تھی کہ محکمہ خزانہ اضافی فنڈز فراہم کرے تاکہ یہ ٹیکس سرکاری خزانے میں جمع کرایا جا سکے۔ دوسری تجویز بقایاجات کی وصولی کی تھی، جبکہ تیسری تجویز کے تحت آزاد کشمیر سیلز ٹیکس ایکٹ 2001 کی دفعہ 3(2A) کو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 13(2A) کے ساتھ ملا کر پڑھتے ہوئے ٹیکس سے استثنیٰ دیا جا سکتا تھا، بشرطیکہ قومی سلامتی، قدرتی آفات، ہنگامی صورتِ حال میں قومی غذائی تحفظ یا دوطرفہ و کثیرالملکی معاہدات پر عملدرآمد جیسے حالات موجود ہوں۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی دو حکومتیں اور بعد ازاں مخلوط حکومت بھی اس ٹیکس کو معاف نہ کر سکیں کیونکہ اس کے لیے کوئی قانونی جواز موجود نہیں تھا۔
پیپلز پارٹی کا فیصلہ اس کے برعکس ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے یہ ٹیکس معاف کر دیا، حالانکہ ایسی کوئی غیر معمولی صورتِ حال موجود نہیں تھی جو اس فیصلے کو قانونی جواز فراہم کر سکے۔
٭٭٭
Share this content:


