آج کل اخبار کون پڑھتا ہے؟ یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی

تحریر: کشف ال ایمان

کبھی گھروں کے دروازے پر اخبار والا دستک دیتا تھا تو لگتا تھا جیسے دن کی پہلی خبر خود چل کر آ گئی ہو۔ والد چائے کا کپ تھامے سرخیاں پڑھتے والدہ باورچی خانے سے پوچھتیں آ ج کیا خاص ہے؟ اور بچے کارٹون والا صفحہ ڈھونڈتے۔ اخبار صرف کاغذ نہیں تھا، ایک رشتہ تھا۔

آج اسی اخبار سے پوچھو تمہیں کون پڑھتا ہے؟ تو وہ خاموش ہو جاتا ہے۔ جواب ہمیں دینا پڑتا ہے: بس چند بزرگ جن کی انگلیوں کو اب بھی سیاہی کی خوشبو یاد ہے۔

نوجوان کے ہاتھ میں اب اخبار نہیں، موبائل ہے۔ وہ کہتا ہے: "سر، خبر تو Notification بن کر آتی ہے۔ اخبار جب تک پرنٹ ہو کر آ ئے دنیا تین بار بدل چکی ہوتی ہے۔ اس کے لیے رفتار اہم ہے ٹھہراؤ نہیں۔ درمیانی عمر کا شخص تھکا ہوا مسکراتا ہے: "شوق تو ہے پر وقت کہاں؟ صبح بچوں کا ناشتہ شام ٹریفک کا عذاب۔ اتوار کو کبھی کھول لیں تو گھر والے کہتے ہیں موبائل پر دیکھ لو۔”

اور کتاب۔ آہ کتاب۔ جس کی جلد پر انگلی پھیریں تو صدیوں کا علم بولتا تھا۔ آج لائبریری کے شیلف مٹی سے اٹے ہیں۔ کتاب میلے میں اسٹال سے زیادہ سیلفی کارنر پر رش ہوتا ہے۔ Kindle کی سکرین نے ورق کی سرسراہٹ چھین لی، PDF نے کتاب کی خوشبو مار دی۔ اس لیے جب کوئی کہتا ہے کہ "یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی” تو دل مانتا بھی ہے اور انکار بھی کرتا ہے۔

سچ یہ ہے کہ عشق مرا نہیں، اس نے روپ بدل لیا ہے۔ پہلے ہم علم کو چھو کر محسوس کرتے تھے ،اب سکرول کر کے گزار دیتے ہیں۔ پہلے ایک کتاب مہینہ ساتھ نبھاتی تھی اب دس PDF ایک دن میں کھول کر بند کر دی جاتی ہیں۔ معلومات کی پیاس اب بھی ویسی ہی ہے بس ہم نے کنواں توڑ کر نل لگا لیا ہے۔ پانی وہی ہے مگر سکون نہیں رہا۔

بقول ۔ "خلیل جبران "

"درخت کتابیں ہیں جو زمین نے آسمان کے لیے لکھی ہیں "

شاید یہ کاغذ کی آخری سانسیں ہیں، کتاب کی نہیں۔ کتاب اب بھی زندہ ہے کسی کے بیگ میں کسی کے تکیے کے نیچے کسی کے ہاتھ میں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب وہ اکیلی ہو گئی ہے۔

سکرین ہمیں علم دیتی ہے لیکن کتاب ہمیں ہم سے ملاتی ہے۔ سکرین بتاتی ہے کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے، کتاب بتاتی ہے کہ ہمارے اندر کیا ہو رہا ہے۔

کاش ہم رفتار کے اس دور میں کچھ لمحے ٹھہر کر ورق پلٹنے کی آواز سن سکیں۔ کیونکہ جب آخری کتاب بند ہو جائے گی تو شاید ہم بھی اپنے اندر کا ایک دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیں گے۔

کاغذ کی یہ مہک، یہ نشہ روٹھنے کو ہے
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی

٭٭٭

Share this content: