پبلک اکاؤنٹس کمیٹی متحرک، جناح ماڈل ٹاؤن اسکینڈل دوبارہ زیر تفتیش

اسلام آباد/ کاشگل نیوز

آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اہم اجلاس چیئرمین عبدالماجد خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری فزیکل پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ، ڈی جی میرپور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے)، سیکرٹری اسمبلی، ممبران کمیٹی، دیگر متعلقہ حکام اور میڈیا نمائندگان کی موجودگی میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں ایم ڈی اے کے آڈٹ اعتراضات اور مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں انکشاف ہوا کہ ایم ڈی اے کی الاٹمنٹ کمیٹی نے ایکٹ کے مغائر بورڈ سے اختیارات لے کر خود ہی اس کمیٹی کے ممبران کو پلاٹ الاٹ کیے، جس پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تمام مشکوک و متنازع الاٹمنٹس کو کالعدم قرار دینے اور متعلقہ افراد کو نوٹسز جاری کرنے کی ہدایت کی۔ بتایا گیا کہ اس نوعیت کے ایک ہزار سے زائد کیسز زیر غور ہیں، جن پر سیکرٹری اور ڈی جی ایم ڈی اے کو فوری کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔

کمیٹی نے جناح ماڈل ٹاؤن میرپور اسکینڈل کی رپورٹ بھی احتساب بیورو سے طلب کر لی ہے، جہاں ایک ارب 59 کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ اس معاملے میں ایم ڈی اے انتظامیہ نے ریکارڈ کی فراہمی کیلئے دھوکہ دہی کی کوشش کی۔

چیرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سیکرٹری فزیکل پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی قائم کر دی گئی جو میرپور بھر میں چائنہ کٹنگ، غیر قانونی سب ڈویژننگ اور نئے پلاٹس کی تخلیق کی مکمل تحقیقات کرے گی، جبکہ ذمہ داران کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اسٹیڈیم شاپس، فارم ہاؤسز اور دیگر الاٹمنٹس میں معاہدوں کی خلاف ورزی، اصل مقاصد سے انحراف اور آگے فروخت کیے جانے کے معاملات پر بھی کارروائی کا حکم دیا۔ اس سلسلے میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے خصوصی آڈٹ کرانے کیلئے باضابطہ درخواست بھی کر دی گئی ہے تاکہ ایک آزاد اور جامع مالیاتی چھان بین ممکن بنائی جا سکے۔ یہ اجلاس میرپور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی میں برسوں سے زیر گردش مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔

Share this content: