لداخ میں مزید 5 نئے اضلاع کا قیام عمل میں لایا گیا

کشمیر کا ہمالیائی خطہ لداخ سات برس میں دوسری بڑی انتظامی تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ خطے کے لیفٹینٹ گورنر نے ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ لیہہ اور کرگل نامی دو ضلعوں پر مشتمل لداخ میں مزید پانچ نئے اضلاع (نوبرا، شام، چھانگتھنگ، دراس اور زانسکار) قائم کر دیے گئے ہیں۔

سنہ 2011 میں ہوئی مردم شماری کے مطابق لداخ کی کل آبادی دو لاکھ 75 ہزار ہے ، تاہم لداخ کا رقبہ 87 ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے اور اس کی سرحدیں چین اور پاکستان کے ساتھ ملتی ہیں۔

لداخ کے سیاسی اور سماجی حلقوں نے اس نئے فیصلے کا یہ کہتے ہوئے خیرمقدم کیا ہے کہ نئے اضلاع کی تشکیل سے اس خطے کے لیے وفاقی فنڈنگ میں اضافہ ہو گا اور دور دراز علاقوں میں ترقی کے امکانات بڑھیں گے۔ تاہم کشمیر میں اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

کالم نویس اور تجزیہ نگار طاہر بیگ کا کہنا ہے کہ ’پورے جموں کشمیر میں فی ضلع آبادی کا اوسط آٹھ لاکھ ہے، جبکہ نئے فیصلے کے مطابق لداخ کی فی ضلع آبادی 40 ہزار سے بھی کم ہو گی، کیونکہ لداخ کی کل آبادی صرف پونے تین لاکھ ہے۔ مقامی لوگوں کے لیے اچھی بات ہے، لیکن کشمیر میں اس فیصلے سے نئے اضلاع کے قیام کا مطالبہ زور پکڑ سکتا ہے۔‘

انڈیا کا چین کے ساتھ لداخ کے معاملے پر دیرینہ سرحدی تنازع ہے۔ سنہ 2020 میں انڈیا نے چینی افواج پر دراندازی اور اراضی پر قبضہ کا الزام عائد کیا تھا جس کے بعد دونوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔

واضح رہے 2019 کے اگست میں انڈین پارلیمنٹ میں ’کشمیر کی تنظیمِ نو‘ بل پاس کیا گیا جس کے تحت کشمیر کو نیم خودمختاری دینے والی آئینی دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کے ساتھ ہی لداخ کو کشمیر کے انتظامی کنٹرول سے الگ کرکے مرکز کے زیرانتظام علیٰحدہ خطہ قرار دیا گیا۔

اس فیصلے کی چین نے سخت مخالفت کی تھی، کیونکہ چین لداخ کو جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے۔ تاہم نئے اضلاع کی تشکیل سے متعلق ابھی تک چین نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

Share this content: