بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ سے دو صحافیوں کے جبری لاپتہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد صحافتی، سماجی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق صحافی ثنا اچکزئی کو پشتون آباد میں واقع ان کے گھر سے پولیس اور سادہ لباس اہلکار اپنے ساتھ لے گئے۔ تاہم تاحال ان کی گرفتاری یا موجودہ مقام کے حوالے سے حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب نوجوان صحافی مقبول احمد جعفر کو بھی نامعلوم افراد اپنے ساتھ لے گئے۔
یاد رہے کہ مقبول احمد جعفر اس سے قبل بھی 8 مارچ کو لاپتہ ہوئے تھے، تاہم بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔
دونوں صحافیوں کے لاپتہ ہونے کے بعد اہل خانہ، صحافی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری بازیابی اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ صحافیوں کی آزادی اور تحفظ کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے، اور اس نوعیت کے واقعات آزادیٔ اظہار اور صحافتی فرائض کی انجام دہی پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔
جبری گمشدگیوں کے خلاف دہائیوں سے جدوجہد کرنے والی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز ( وی بی ایم پی) کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بھی واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان صحافی مقبول جعفر کی جبری گمشدگی باعثِ تشویش اور جمہوری آوازوں کو دبانے کے مترادف ہے، جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ جبری گمشدگیاں نہ صرف انسانی حقوق بلکہ آئین اور بنیادی شہری آزادیوں کی بھی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مقبول جعفر کی فوری اور باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔اورہم اس مشکل گھڑی میں مقبول جعفر کے اہلِ خانہ اور دوستوں کے ساتھ مکمل یکجہتی اور بھرپور تعاون کا اظہار کرتے ہیں، اور ان کی بازیابی کے لیے تنظیمی سطح پر ہر فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے۔
Share this content:


