ویمن یونیورسٹی فنڈز میں کروڑوں کی بے قاعدگیوں کا انکشاف

باغ /کاشگل نیوز

پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ جموں و کشمیر میںعبدالحمیدپیرزادہ کا ویمن یونیورسٹی میں3 کروڑ روپے سے زائد کا مالی اسکینڈل آڈٹ رپورٹ میں پکڑا گیا ہے لیکن دوسری جانب جامعہ باغ کی سینیٹ کےاجلاس میں ان بےضابطگیوں کوتحفظ دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

11 مئی بروز سوموار جامعہ باغ جموں کشمیر کی سینیٹ کا اہم اجلاس منعقد ہونےجارہا ہے، مگر اجلاس سے قبل سامنے آنے والی اطلاعات نے کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

باخبر ذرائع کے مطابق سابق وائس چانسلر عبدالحمید پیرزادہ اس اجلاس میں بعض ایسی منظوریوں کے حصول کیلئے سرگرم ہیں جو ان کے دور میں سامنے آنے والی مالی بے ضابطگیوں، آڈٹ اعتراضات اور انتظامی فیصلوں پر اٹھنے والے سوالات کے اثرات کم کرنے یا ان معاملات کو ادارہ جاتی تحفظ دینے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

ذرائع یہ بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس مقصد کیلئے باغ ویمن یونیورسٹی سے وابستہ بعض انتظامی اہلکار بھی پس پردہ متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ویمن یونیورسٹی باغ میں زمین کے حصول اور باؤنڈری وال منصوبے میں کروڑوں روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا معاملہ دوبارہ شدت اختیار کر گیا ہے، اور ذرائع کے مطابق سابق وائس چانسلر عبدالحمید پیرزادہ کے خلاف نئے ریفرنس کی تیاری آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔

دستیاب آڈٹ ریکارڈ کے مطابق 5 جون 2023ء کو میسرز راجہ منشا اینڈ کو پرائیویٹ لمیٹڈ کو 7 کروڑ 63 لاکھ 55 ہزار روپے کا ورک آرڈر جاری کیا گیا، تاہم بعد ازاں مبینہ طور پر قواعد و ضوابط اور منظور شدہ پی سی ون سے انحراف کرتے ہوئے ٹھیکیدار کو 3 کروڑ 29 لاکھ 23 ہزار روپے کی اضافی ادائیگی کر دی گئی۔

آڈٹ حکام نے اس ادائیگی کو قواعد کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے نہ صرف رقم کی واپسی بلکہ ذمہ داران کے خلاف قانونی و محکمانہ کارروائی کی سفارش بھی کی۔

ذرائع کے مطابق معاملہ محض مالی بے ضابطگیوں تک محدود نہیں، بلکہ بعض انتظامی فیصلوں، مخصوص عہدیداروں کی مدتِ تعیناتی میں توسیع اور اندرونی گروپ بندی کے ذریعے ماضی کے متنازع فیصلوں کو تحفظ دینے کی کوششوں کے الزامات بھی گردش میں ہیں۔

باخبر حلقوں کا دعویٰ ہے کہ اپنے خلاف جاری انکوائریوں کے دباؤ کے باوجود عبدالحمید پیرزادہ اثر و رسوخ کے ذریعے نہ صرف ان تحقیقات کے رخ پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے رہے بلکہ اب جامعہ باغ کے اہم فورمز کو بھی اپنے حق میں استعمال کرنے کیلئے سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔

ادھر جامعہ پونچھ راولاکوٹ میں وائس چانسلر کے منصب کیلئے ان کی حد درجہ دلچسپی نے بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب وہاں ساڑھے تین ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی و تعمیراتی منصوبے زیر تعمیر ہیں۔

تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر مالی بے ضابطگیوں، آڈٹ اعتراضات اور زیر التوا انکوائریوں کے سائے میں اہم تعلیمی مناصب کے حصول کی کوششیں جاری رہیں تو یہ نہ صرف ادارہ جاتی شفافیت بلکہ پورے تعلیمی نظام کے اعتماد کیلئے سوالیہ نشان بن جائے گا۔ اب تمام نظریں 11 مئی کے سینیٹ اجلاس پر مرکوز ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ اجلاس جامعہ کے مستقبل، شفافیت اور احتساب کیلئے سنگِ میل ثابت ہوگا، یا پھر ماضی کے متنازع فیصلوں پر پردہ ڈالنے اور مخصوص مفادات کو تحفظ دینے کا ذریعہ بنے گا؟ آنے والے دنوں میں اینٹی کرپشن اور احتساب بیورو میں زیر التوا تحقیقات اور ممکنہ نئے ریفرنس اس معاملے کو آزاد کشمیر کج جامعات میں احتساب کے ایک بڑے کیس میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

Share this content: