بلوچستان کے مختلف علاقوں سے 5 نوجوانوں کی لاشیں برآمد،دو کی جبری گمشدگی کی تصدیق

بلوچستان میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مختلف علاقوں سے 5 نوجوانوں کی لاشیں برآمدہوئی ہیں جنہیں گولی مارکر قتل کیا گیا ہے ۔ان لاشوں میں 2 کی شناخت پہلے سے جبری لاپتہ کے طور پر ہوگئی ہے۔جنہیں دوران حراست یا جعلی مقابلے میں قتل کرنے کا شبہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق ضلع پنجگور سے میں العمارات ہوٹل کے قریب ایک گاڑی سے 2 نوجوانوں کی لاشیں اور ایک چار سالہ زندہ بچہ برآمد ہوا ہے۔

مقامی میڈیا نے علاقائی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب گاڑی سے2 افراد کی لاشیں ملی ہیں جنہیں گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق مقتولین کی شناخت نبیل ولد جمیل احمد اور شہاب ولد نزیر احمد کے نام سے ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق گاڑی میں موجود چار سالہ بچہ، جو مقتول شہاب کا بیٹا بتایا جاتا ہے، معجزانہ طور پر محفوظ حالت میں پایا گیا۔

قتل کے محرکات تاحال سامنے نہیں آسکے۔

اسی طرح ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے مختلف نواحی علاقوں سے 3 نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جن میں 2 کی جبری گمشدگی کی تصدیق ہوگئی ہے۔

ملائی نگور، تحصیل دشت سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی جسے ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کیا گیا۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق لاش کی شناخت ماسٹر عابد ولد محمد عمر سکنہ کھڈان دشت کے نام سے ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ماسٹر عابد کو تقریباً تین ہفتے قبل دشت ڈڈھے سے نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا۔

ایک اور لاش تربت کے بانک چڑھائی پسنی روڈ سے ملی ہے جسے گولیاں مار کر قتل کیا گیاہے۔

پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت اسکول دستاویزات کی مدد سے جان محمد ولد قادر بخش سکنہ گومازی تمپ کے نام سے ہوئی ہے، جو آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا۔

علاوہ ازیں زامران سے تعلق رکھنے والے برہان الدین ولد محمد نعیم کی لاش بھی تربت سے کیچ کور کے قریب برآمد ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق برہان الدین کو 28 اکتوبر 2025 کو ڈیتھ اسکواڈز اور ایم آئی اہلکاروں نے تربت کے علاقے بگ میری سے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔

برہان الدین کے حوالے سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کہنا تھا کہ اہل خانہ چھ ماہ اور 14 دن تک ان کی واپسی کے منتظر رہے، مگر بعد ازاں انہیں برہان الدین کی تشدد زدہ لاش موصول ہوئی۔

بی وائی سی کے مطابق برہان الدین کو ریاستی تحویل میں رکھا گیا، عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، اور بعد ازاں انہیں ماورائے عدالت قتل کردیا گیا۔

تنظیم نے جبری گمشدگیوں، ٹارگٹ کلنگ اور ماورائے عدالت قتل کی پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری اقدامات کی اپیل کی ہے۔

Share this content: