کاشگل نیوز خصوصی رپورٹ
ہر سال 20 مئی کو دنیا بھر میں شہد کی مکھیوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ شہد کی مکھیوں کی اہمیت، زرعی پیداوار میں ان کے کردار اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے شعور اجاگر کیا جا سکے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع باغ کی تحصیل دھیرکوٹ میں بھی گزشتہ چند برسوں کے دوران مگس بانی کی صنعت تیزی سے ابھر کر سامنے آئی ہے جہاں لوگ گھروں میں شہد کی مکھیاں پال کر لاکھوں روپے کما رہے ہیں۔
قدرتی حسن اور سرسبز پہاڑی علاقوں کے لیے مشہور دھیرکوٹ میں مگس بانی اب صرف ایک روایتی مشغلہ نہیں رہی بلکہ یہ مقامی معیشت کا اہم ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ علاقے میں بڑی تعداد میں نوجوانوں اور محنت کش خواتین نے بھی اس شعبے کو اختیار کیا ہے اور گھریلو سطح پر شہد کی پیداوار کے ذریعے اپنی آمدن میں اضافہ کر رہی ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق دھیرکوٹ میں ہر سال شہد کی نمائش کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے جہاں مختلف اقسام کے قدرتی شہد کو پیش کیا جاتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق تحصیل دھیرکوٹ میں سالانہ تقریباً ایک کروڑ روپے مالیت کا شہد فروخت کیا جاتا ہے، تاہم مقامی لوگ اس صنعت میں مزید ترقی کی وسیع گنجائش موجود ہونے پر زور دیتے ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مگس بانی صدیوں پرانے روایتی طریقوں کے تحت بھی کی جاتی رہی ہے۔ قدیم طرزِ مگس بانی میں مٹی سے بنے بالٹی نما ڈبے کو گھروں کی مٹی کی دیواروں میں نصب کیا جاتا تھا جبکہ بعض علاقوں میں لکڑی کے ڈبوں پر مٹی کا لیپ کر کے انہیں دیواروں میں فٹ کیا جاتا ہے۔ مقامی زبان میں اس روایتی چھتے کو “کٹھلی” کہا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ طریقہ آج بھی بعض دیہی علاقوں میں رائج ہے، تاہم اب جدید بکسوں اور سائنسی طریقہ کار کی جانب رجحان بڑھ رہا ہے۔
خطے میں زیادہ تر پہاڑی نسل کی شہد کی مکھی پائی جاتی ہے جو جسامت میں آسٹریلین ہنی بی سے نسبتاً چھوٹی ہوتی ہے لیکن سخت موسمی حالات میں باآسانی زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مقامی مگس بانوں کے مطابق پہاڑی مکھی کا ایک چھتہ اوسطاً سال میں دو مرتبہ شہد تیار کرتا ہے اور ایک چھتے سے سالانہ 6 سے 12 کلوگرام تک شہد حاصل کیا جا سکتا ہے۔
کاشگل نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مگس بانی کے شعبے سے وابستہ شہریوں نے بتایا کہ گزشتہ برس ضلع باغ کے مختلف علاقوں میں شہد کی مکھیوں کو بیماریوں اور مختلف دشمن حشرات کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں پہاڑی شہد کی مکھیاں یا تو مر گئیں یا اپنے چھتے چھوڑ کر ہجرت کر گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیاں، جنگلات میں کمی اور زرعی ادویات کا بے دریغ استعمال بھی شہد کی مکھیوں کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگرچہ سرکاری سطح پر چھوٹے پیمانے پر نمائشوں اور تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا جاتا ہے، تاہم کم بجٹ، حکومتی عدم توجہی اور تکنیکی معاونت کے فقدان کے باعث یہ صنعت مطلوبہ ترقی حاصل نہیں کر پا رہی۔
مگس بانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں جدید تربیت، مالی معاونت، بیماریوں سے بچاؤ کے لیے تکنیکی رہنمائی اور مارکیٹنگ سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ خطے میں مگس بانی کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دیا جا سکے۔
Share this content:


