ذوالفقارعلی ،سابق نامہ نگار بی بی سی
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر نے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے پانی کے وسائل پر قبضہ جما لیا ہے اور ہر سال دسیوں ارب روپے کے مالی فوائد حاصل کر رہا ہے۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے آئین میں اس خطے نے غلط اور ناجائز طریقے سے خود کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے نکلنے والے دریاؤں کا مالک ظاہر کیا ہے۔
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے نکلنے والا دریائے جہلم اور اس کے معاون دریا، نیلم اور پونچھ، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے گزرتے ہیں۔ انہی دریاؤں پر پاکستان نے ڈیم اور پن بجلی منصوبے تعمیر کیے ہیں، جن میں میرپور میں منگلا کے مقام پر ڈیم اور پن بجلی منصوبہ، اور اسی طرح دریائے نیلم پر قائم ڈیم اور نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ شامل ہیں۔
ان منصوبوں کی تعمیر کے نتیجے میں متاثر ہونے والی آبادی کو زمینوں، گھروں اور درختوں کا معاوضہ دیا گیا۔ منگلا ڈیم کے متاثرین کو نہ صرف مالی معاوضہ دیا گیا بلکہ انہیں پاکستان میں متبادل زمینیں بھی فراہم کی گئیں اور میرپور اور ڈڈیال میں تین نئے شہر تعمیر کیے گئے۔ اس کے علاوہ ترقیاتی منصوبوں اور ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے لیے بھی دسیوں ارب روپے فراہم کیے گئے۔ ان منصوبوں میں کھربوں روپے کی سرمایہ کاری کی گئی، جس سے مقامی لوگوں کو نوکریوں اور کاروبار کے مواقع بھی ملے۔
حیران کن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت، بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے دریاؤں کو اپنی ملکیت ظاہر کرتے ہوئے، حکومتِ پاکستان سے دہائیوں سے منگلا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے واٹر یوسیج چارجز وصول کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی اور پنجاب کی سرحد پر دریائے جہلم پر سی پیک (CPEC) کے تحت تعمیر کیے گئے کروٹ پن بجلی گھر کے واٹر یوسیج چارجز بھی اسی خطے کو ملتے ہیں، جبکہ یہ پن بجلی گھر صوبہ پنجاب میں واقع ہے۔
اس کے علاوہ یہ خطہ پاکستان سے سستی بجلی بھی حاصل کرتا ہے، جس کے لیے یہ جواز دیا جاتا ہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے دریا ان کی ملکیت ہیں، جو کہ حقیقت کے برعکس ہے۔ صرف مالی سال 2024-2025 میں حکومتِ پاکستان نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کو بجلی پر 108 ارب روپے کی سبسڈی دی، جبکہ رواں مالی سال میں بھی 74 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی گئی۔ اس کے علاوہ، فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ (FDI) کے تحت گل پور میں دریائے پونچھ پر قائم ہائیڈرو پاور منصوبے اور دریائے جہلم سے نکالی گئی نہر پر لاریب کمپنی کے پن بجلی منصوبوں کے واٹر یوسیج چارجز بھی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت ہی وصول کر رہی ہے۔ ان منصوبوں سے ٹیکس بھی وصول کیے جا رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جن دریاؤں پر یہ تمام منصوبے قائم کیے گئے ہیں، وہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے نکلتے ہیں۔ چاہے یہ منصوبے حکومتِ پاکستان نے تعمیر کیے ہوں، سی پیک کا حصہ ہوں، ایف ڈی آئی سے تعمیر کیے گئے ہوں یا نجی کمپنیوں کے ذریعے ہوں، ان کا بنیادی آبی منبع بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں واقع ہے۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت کا ان دریاؤں پر ملکیت یا مستقل مالی فوائد کا دعویٰ کئی سوالات پیدا کرتا ہے۔
مثال کے طور پر، مظفرآباد کے قریب پترینڈ کے مقام پر قائم 150 میگاواٹ کا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ ایف ڈی آئی کے تحت تعمیر کیا گیا۔ اس منصوبے کے واٹر یوسیج چارجز دو حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں، جن میں سے ایک حصہ خیبر پختونخوا کو دیا جاتا ہے کیونکہ یہ منصوبہ دریائے کنہار پر واقع ہے، جو خیبر پختونخوا سے نکلتا ہے۔
سب سے زیادہ حیران کن امر یہ ہے کہ پاکستان کا زیرِ انتظام کشمیر، ریاست جموں و کشمیر کے صرف چھ فیصد رقبے پر مشتمل ہے، لیکن اس خطے کا آئین غلط اور ناجائز طور پر بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے آبی وسائل پر اپنی ملکیت ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ طرزِ فکر واضح طور پر استحصالی اور استعماری ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان اور متعلقہ کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت کو واٹر یوسیج چارجز دینا فوری طور پر بند کر دیں کیونکہ اس کی کئی قانونی پیچیدگیاں ہیں، اور حکومتِ پاکستان ان دریاؤں کی بنیاد پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کو سستی بجلی کی فراہمی پر بھی نظرثانی کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس آمدنی کو ان کشمیری پناہ گزینوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنا چاہیے جو آزاد کشمیر کی حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کی سرد مہر رویے کی وجہ سے بے گھر ہوئے۔
ماہرین مزید کہتے ہیں کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومتوں نے واٹر یوسیج چارجز اور سستی بجلی کی مد میں آج تک کھربوں روپے کے فوائد حاصل کیے ہیں۔ ان کے مطابق یہ رقم واپس لے کر بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے آئے پناہ گزینوں کی فلاح پر خرچ کی جانی چاہیے۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ "پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے آبی وسائل پر اپنا دعویٰ ترک کرے، ان سے فوائد حاصل کرنے سے اجتناب کرے اور مستقبل میں ان آبی وسائل کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وسائل قرار دینے سے گریز کرے۔”
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے ایک طالب علم طیب نے اس حوالے سے کہا کہ "پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کا آئین دنیا کا واحد آئین ہے جو استحصال پر یقین رکھتا ہے، اور اس آئین کو منسوخ کیا جانا چاہیے۔”
٭٭٭
Share this content:


