پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومتوں اور جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے مابین 30 مئی کو ہونے والے مذاکراتی دور میں ڈیڈ لاک کے بعد وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور، رانا ثناء اللہ نے مذاکرات کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومتِ آزاد کشمیر اور اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) نے فیصلہ کیا ہے کہ اس صورتحال اور عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کے حوالے سے ایک آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے، جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے۔
اسی سلسلے میں ہم نے وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کے ترجمان شوکت جاوید میر سے بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ:
"کل 3 جون کو صبح 11 بجے ایوانِ وزیراعظم مظفرآباد میں وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور اور قائدِ حزبِ اختلاف شاہ غلام قادر کی میزبانی میں ایک آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہو رہی ہے، جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان یا ان کے نامزد نمائندگان شرکت کریں گے، تاکہ اتفاقِ رائے کے ذریعے ایسی سفارشات مرتب کی جا سکیں جو سب کے لیے قابلِ قبول ہوں۔”
ترجمانِ وزیراعظم سے جب سوال کیا گیا کہ کیا جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کو بھی اس کانفرنس میں مدعو کیا گیا ہے اور کیا قوم پرست جماعتیں بھی اس میں شرکت کریں گی؟ تو ان کا کہنا تھا:
"ظاہر ہے کہ ایکشن کمیٹی اس معاملے میں ایک فریق ہے۔ ہم سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک نکاتی ایجنڈا ہے، اس لیے تمام متعلقہ حلقوں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
دوسری جانب قوم پرست طلبہ تنظیم جے کے این ایس ایف کے صدر ڈاکٹر نجیب اللہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک ہمیں کوئی دعوت نامہ موصول نہیں ہوا اور ہم نے اس اے پی سی کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔
Share this content:


