رپورٹ: فرحان طارق
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکومت اور اپوزیشن کی میزبانی میں 3 جون کو منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) سے قبل خطے کی متعدد قوم پرست جماعتوں نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں کانفرنس میں شرکت کے لیے مدعو نہیں کیا گیا۔
منگل کی شب بارہ بجے تک مختلف قوم پرست جماعتوں کے رہنماؤں نے اے پی سی کے حوالے سے کسی قسم کا دعوت نامہ موصول نہ ہونے کی تصدیق کی۔
جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی (جے کے پی این پی) کے جنرل سیکرٹری الیاس کشمیر نے کہا کہ انہیں کانفرنس کا کوئی دعوت نامہ موصول نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا:
"یہ جن پارٹیوں پر مشتمل اے پی سی ہو رہی ہے، ان جماعتوں کو عوامی تحریک گزشتہ تین سال سے مسترد کرتی آ رہی ہے۔ ان پارٹیوں کے لوگ اس حد تک مسترد ہوئے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور پاکستانی حکمرانوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں بھی حکمران جماعتوں کے نمائندوں کو باہر رکھا گیا۔ لہٰذا یہ وہاں سے بھی مسترد ہو چکے ہیں۔ اس وقت یہ کوئی اسٹیک ہولڈرز نہیں ہیں، اصل اسٹیک ہولڈرز خطے کے عوام ہیں۔ یہ عوام کے مسترد شدہ لوگ ہیں۔ ہم اے پی سی کو اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ جس طرح عوام نے ان تمام جماعتوں کو مسترد کیا ہوا ہے، عوامی تحریک کو بنیاد بنا کر اے پی سی منعقد کروا کر انہیں زندہ کرنے کی آخری کوشش کی جا رہی ہے، جس میں یہ ناکام ہوں گے۔ عوامی تحریک کے حوالے سے اس اے پی سی کا کوئی مؤثر کردار نہیں ہو سکتا۔”
قوم پرست جماعت نیشنل عوامی پارٹی کے صدر سردار نیاز نے بھی موقف اپنایا:
"ہمیں اس کانفرنس میں مدعو نہیں کیا گیا۔ یہ روایتی سیاسی جماعتوں کی کانفرنس ہے۔ ہمارا نعرہ ہے کہ یہ وطن ہمارا ہے اور اس پر ہم حکمرانی کریں گے۔ ہم ایک بااختیار اسمبلی کی بات کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ عوامی حقوق تحریک کے چارٹر آف ڈیمانڈ کو پورا کیا جائے اور خطے میں افراتفری نہ پھیلائی جائے۔”
اسی طرح جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (جے کے این ایس ایف) کے صدر ڈاکٹر نجیب اللہ نے بھی کہا کہ ان کی جماعت کو آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کے لیے کوئی دعوت نامہ نہیں ملا۔
دوسری جانب جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے چیئرمین سردار صغیر نے بھی کانفرنس کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔
جبکہ وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا ہے:
"آل پارٹیز کانفرنس میں تمام سیاسی جماعتوں کو مدعو کیا گیا ہے۔ ہم نے ایکشن کمیٹی کو بھی اس میں مدعو کیا ہے۔ آج ہم نے انہیں تحریری دعوت نامہ بھی بھیجا ہے کہ کور ممبران میں سے نمائندگی کی جائے۔ بلکہ میں نے خود شوکت نواز میر صاحب کو فون کر کے کہا کہ میں ذاتی طور پر بھی آپ کو دعوت دینے کے لیے آنا چاہتا ہوں۔”
اس پر جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی مظفرآباد ڈویژن کے ترجمان حفیظ ہمدانی نے کہا:
"ہم کوئی سیاسی جماعت نہیں ہیں جو آل پارٹیز کانفرنس میں شریک ہوں۔ ہم ایک عوامی تحریک ہیں، ہمارا آل پارٹیز کانفرنس سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم کچھ دیر بعد تحریری طور پر اپنا موقف بھی عوام کے سامنے رکھ رہے ہیں۔”
اس معاملے پر وزیراعظم کے ترجمان شوکت جاوید میر نے بتایا:
"3 جون کو صبح 11 بجے ایوانِ وزیراعظم مظفرآباد میں وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور اور قائدِ حزبِ اختلاف شاہ غلام قادر کی میزبانی میں ایک آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہو رہی ہے، جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان یا ان کے نامزد نمائندگان شرکت کریں گے تاکہ اتفاقِ رائے کے ذریعے ایسی سفارشات مرتب کی جا سکیں جو سب کے لیے قابلِ قبول ہوں۔”
واضح رہے کہ پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومتوں اور جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان 30 مئی کو ہونے والے مذاکراتی دور میں ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا تھا۔ مذاکرات کے اختتام پر وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومتِ آزاد کشمیر اور اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) نے موجودہ صورتحال اور عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر مشاورت کے لیے ایک آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا۔
تاہم اہم بات یہ ہے کہ قوم پرست جماعتوں کے ساتھ ساتھ پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور سابق وزیراعظمِ آزاد کشمیر خواجہ فاروق احمد نے بھی کہا کہ پی ٹی آئی کو اس کانفرنس کی کوئی دعوت موصول نہیں ہوئی، لہٰذا پاکستان تحریکِ انصاف اس آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت نہیں کر رہی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اس کانفرنس کو کس نظر سے دیکھتے ہیں تو ان کا کہنا تھا:
"کانفرنس کے انعقاد سے قبل میں کچھ نہیں کہہ سکتا، کیونکہ ہمیں اس میں بلایا ہی نہیں گیا۔”
Share this content:


