اسلام آباد / گلگت (کاشگل نیوز/خصوصی رپورٹ)
پاکستان کے زیرِ انتظام متنازع خطے گلگت بلتستان میں رواں ماہ کی 7 تاریخ کو شیڈول عام انتخابات کے لیے سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں، تاہم انتخابی عمل کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ مقامی اور علاقائی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ماضی کے انتخابی ریکارڈ کی طرح اس بار بھی گلگت بلتستان میں حقیقی عوامی نمائندوں کا راستہ روکنے کے لیے پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسی (آئی ایس آئی) کی جانب سے "پری پول رگنگ” (انتخابات سے قبل دھاندلی) اور انتخابی عمل کو مبینہ طور پر ہائی جیک کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کو گلگت جانے سے روکنے کا واقعہ
حالیہ دنوں میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے مابین سیکیورٹی اور سڑکوں کی بندش کے باعث شدید سیاسی تنازع دیکھنے میں آیا۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، جو گلگت بلتستان میں اپنی پارٹی کے امیدوار کی انتخابی مہم کے سلسلے میں روانہ ہو رہے تھے، انہیں راولپنڈی پولیس کی جانب سے سڑکیں بلاک کر کے مبینہ طور پر روکے رکھا گیا۔ سڑکوں کی اس اچانک بندش کے باعث ان کی فلائٹ کا وقت نکل گیا اور وہ گلگت روانہ نہ ہو سکے۔
مبینہ طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما جنید اکبر کو انتخابی مہم کے دوران گلگت بلتستان سے نکال دیے جانے کے بعد پیش آیا ہے کہ جو سات جون کو ہونے والے انتخابات کی انتخابی مہم کے لیے وہاں اپنی ٹیم کے ساھ موجود تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سڑک بندش کی زد میں صرف اپوزیشن ہی نہیں بلکہ وفاق اور پنجاب کی حکمران جماعت، پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے رہنما خواجہ سعد رفیق بھی آئے، جو خود بھی اپنی پارٹی کی انتخابی مہم کے لیے گلگت جا رہے تھے اور فلائٹ چھوٹنے کے باعث نہ جا سکے۔ ذرائع کے مطابق پولیس کی اس اچانک کارروائی سے نہ صرف سیاسی رہنما بلکہ گلگت جانے والے متعدد عام مسافروں کو بھی شدید مالی و سفری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
قوم پرست رہنماؤں کی گرفتاریاں اور سیاسی جبر
انتخابات سے قبل گلگت بلتستان کے مقامی قوم پرستوں اور عوامی حقوق کے علمبرداروں کے خلاف کریک ڈاؤن کی اطلاعات ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے ممتاز رہنما ایڈووکیٹ احسان علی، شبیر مایار اور دیگر سرگرم سیاسی کارکنوں کو مختلف الزامات کے تحت جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، کئی دیگر مقامی اور عوامی رہنما ریاستی جبر اور ممکنہ گرفتاریوں کے خوف سے روپوش (انڈر گراؤنڈ) ہو چکے ہیں، جس کے باعث آزادانہ انتخابی مہم بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
انتخابی نشان سے محرومی اور "فارم 47” کا خدشہ
سیاسی حلقوں میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ پاکستان کے گزشتہ 2024 کےعام انتخابات کی طرح (جہاں پی ٹی آئی کو اس کے روایتی انتخابی نشان ‘بلے’ سے محروم کیا گیا تھا اور بانی پی ٹی آئی عمران خان تاحال جیل میں مقید ہیں)، گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھی اسی طرزِ عمل کو دہرایا جا رہا ہے۔ عوامی ذرائع کا आरोप ہے کہ آئی ایس آئی کی جانب سے من پسند افراد کو جتوانے کے لیے زمین ہموار کی جا رہی ہے۔ عوامی سطح پر یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر عوام نے ماضی کی طرح تمام تر سختیوں کے باوجود اپوزیشن یا آزاد امیدواروں کو ووٹ دیا، تو مینیجڈ نتائج یا "فارم 47” جیسے ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کو چوری کر کے من پسند افراد کو اقتدار سونپ دیا جائے گا۔
بین الاقوامی اثرات اور بھارت کے لیے پروپیگنڈا کا موقع
سیاسی تجزیہ کاروں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کی جغرافیائی اور متنازع حیثیت کے باعث یہاں انتخابی عمل کو متنازع بنانا پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ کھلے عام رگنگ اور انسانی حقوق کی پامالی کے یہ اقدامات پڑوسی ملک بھارت کو عالمی فورمز پر یہ ثابت کرنے کا سنہری موقع فراہم کر سکتے ہیں کہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت کا وجود نہیں ہے اور وہاں کی فوج طاقت کا غلط استعمال کر کے متنازع خطوں کے عوام کے بنیادی، سیاسی اور آزادی کے حقوق سلب کر رہی ہے۔
اضافی حقائق اور پسِ منظر (تجزیاتی نقطہ نظر)
گلگت بلتستان کے انتخابی ماحول کو مزید گہرائی سے سمجھنے کے لیے درج ذیل حقائق اہم ہیں:
آئینی حیثیت کا دیرینہ مطالبہ:
گلگت بلتستان کے عوام طویل عرصے سے پاکستان کے پانچویں صوبے کے طور پر مکمل آئینی حقوق اور پارلیمنٹ میں نمائندگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ عبوری صوبے کے قیام کے حوالے سے ماضی میں یقین دہانیاں تو کرائی گئیں، مگر تاحال یہ معاملہ جوں کا توں ہے، جس کی وجہ سے مقامی آبادی میں پہلے ہی محرومی کا احساس پایا جاتا ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کا اثر و رسوخ:
گلگت بلتستان میں ‘عوامی ایکشن کمیٹی’ کسی روایتی سیاسی جماعت کے بجائے گندم کی سبسڈی، ٹیکسز کے نفاذ اور لوڈ شیڈنگ جیسے بنیادی عوامی مسائل پر تحریک چلانے والا ایک بڑا اتحاد ہے۔ ایڈووکیٹ احسان علی جیسے رہنماؤں کی گرفتاری سے مقامی عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے، کیونکہ ان رہنماؤں کو عام طور پر گلگت کے حقوق کی توانا آواز سمجھا جاتا ہے۔
وفاق کا روایتی اثر:
تاریخی طور پر گلگت بلتستان کے انتخابات میں ہمیشہ اسی جماعت کو کامیابی ملتی رہی ہے جو اسلام آباد (وفاق) میں حکومت کر رہی ہوتی ہے، کیونکہ اس خطے کا بجٹ اور انتظامی کنٹرول براہ راست وفاق کے تحت کام کرنے والی ‘گلگت بلتستان کونسل’ اور وزارتِ امورِ کشمیر و گلگت بلتستان کے پاس ہوتا ہے۔ موجودہ سیٹ اپ میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کا گٹھ جوڑ اس روایتی تسلسل کو برقرار رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
عالمی توجہ اور سی پیک (CPEC):
گلگت بلتستان چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کا گیٹ وے ہے۔ یہاں سیاسی عدم استحکام، عوامی احتجاج یا انتخابات کا متنازع ہونا سیکیورٹی کے لحاظ سے انتہائی حساس مانا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مقتدر حلقے انتخابی نتائج کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔
Share this content:


