پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 9 جون کو جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی احتجاجی کال اور لانگ مارچ کے پیشِ نظر محکمہ پولیس نے سکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کی سفارش کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ پولیس کی جانب سے چیف سیکرٹری پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کو ارسال کیے گئے ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ احتجاج اور لانگ مارچ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے خطے میں تعینات موجودہ نفری کے علاوہ پاکستان کے مختلف سکیورٹی اداروں اور پولیس فورسز سے اضافی نفری فراہم کی جائے۔
مراسلے کے مطابق مجموعی طور پر 14 ہزار اضافی اہلکاروں کی سفارش کی گئی ہے، جن میں فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کے 6 ہزار اہلکار، پاکستان رینجرز کے 5 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 2 ہزار اہلکار اور سندھ پولیس کے ایک ہزار اہلکار شامل ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے سیاحوں، تاجروں اور دیگر مقاصد کے تحت خطے میں آنے والے افراد کو 9 جون کی احتجاجی کال کے پیشِ نظر غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
حکومتی ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ 5 جون سے 20 جون 2026 تک خطے میں ممکنہ احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام غیر ضروری آمدورفت اور آزاد کشمیر میں داخلے سے اجتناب کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال یا سفری مشکلات سے بچا جا سکے۔
حکومت نے اس وقت آزاد کشمیر میں موجود سیاحوں اور دیگر غیر مقامی افراد سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ 5 جون کی شام تک خطے کی حدود چھوڑ دیں تاکہ انہیں کسی غیر متوقع صورتحال یا ممکنہ دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
واضح رہے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو لانگ مارچ اور احتجاجی مظاہروں کی کال دے رکھی ہے، جس کے باعث حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سکیورٹی اور انتظامی سطح پر تیاریاں تیز کر دی ہیں۔
اس دوران فون اور انٹرنیٹ سروسزکے بھی بند رکھنے کا امکان مستردنہیں کیا جاسکتا جو ماضی بھی ہوتا رہا ہے ۔
Share this content:


