پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں سے گزشتہ اٹھارہ گھنٹوں کے دوران امن و اماں اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کارروائی کرتے ہوئے کم از کم 72 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق مظفرآباد سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں اور کور کمیٹی کے ارکان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق جن کور ممبران کو حراست میں لیا گیا ہے ان میں انجم الزماں اور راجہ صہیب جاوید شامل ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ان دنوں حالات شدید کشیدہ ہیں۔
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پاکستان میں مقیم مہاجرین (جنھیں ’مہاجرین مقیم پاکستان‘ کہا جاتا ہے) کی 12 نشستوں پر عوامی ایکشن کمیٹی نے کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے نو جون (منگل) کو غیر معینہ مدت کے لیے احتجاج کی کال دے رکھی ہے اور شہریوں کو ہنگامی صورتحال کے لیے راشن ذخیرہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
احتجاج کی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے کشمیر حکومت نے پاکستان کی وفاقی حکومت سے اضافی نفری طلب کی ہے جبکہ احتجاج کے پیش نظر جموں و کشمیر یونیورسٹی اور میرپور انٹرمیڈیٹ بورڈ نے آٹھ جون سے شروع ہونے والے امتحانات منسوخ کر دیے ہیں۔
حالت میں کشیدگی سنیچر کی صبح اس وقت بڑھ گئی جب آج صبح کے وقت راولاکوٹ میں فائرنگ کے نتیجے میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا ایک رکن ہلاک ہو گیا۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں شاہ زیب نامی شخص کی ہلاکت ہوئی ہے ۔
مقامی پولیس کے مطابق جن کور ممبران کو حراست میں لیا گیا ہے ان میں انجم الزماں اور راجہ صہیب جاوید شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق ابتدائی کارروائی کے دوران بعض افراد سے اسلحہ اور مواصلاتی آلات مشتبہ دستاویزات ، امن و اماں کو متاثر کرنے کے منصوبوں سے متعلق مواد، احتجاجی اور پر تشدد سر گرمیوں کے منظم طریقہ کار ڈٹرنس اور غیر ملکی افراد سے مشکوک افراد کے اشارے بھی ملے ہیں جن کی توتیش قانون کے مطابق جاری ہے۔
آئی جی پولیس پاکستان زیر انتظام کشمیر نے واضح کیا ہے کہ کسی شخص گروہ یا غیر قانونی سر گرمی میں ملوث عناصر تشدد اشتعال انگزیز اسلحہ کے استمال سڑکوں کی بندش عوامی املاک کو نقصان پہنچانے یا شہریوں کو معمولات زندگی متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جاۓ گی۔
’ایک آئینی، قانونی مسئلے کو جذباتی مسئلہ بنا دیا گیا‘: پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ’مہاجرین مقیم پاکستان‘ کی 12 نشستوں کا تنازع کیا ہے؟
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے محکمہ داخلہ کے اہلکار کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو جب سے کالعدم قرار دیا گیا ہے اس کے بعد اس کمیٹی سے منسلک جن افراد کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے شیڈول ون میں شامل کیا گیا ہے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ہوم ڈپارٹمنٹ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا تھا کہ ڈھائی سو سے زیادہ ایسے افراد کی فہرست تیار کر لی گئی ہے جن کے بارے میں کہ بتایا جاتا ہے کہ وہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سرکردہ رہنما ہیں۔
اہلکار کے مطابق اس فہرست میں شامل افراد کو انسداد دہشت ایکٹ کے شیڈول ون میں ڈالا جائے گا جس کے مطابق ان افراد کی نہ صرف نقل و حرکت پر پابندی ہوگی بلکہ وہ اپنے بینک اکاونٹس بھی اجازت کے بغیر استعمال نہیں کر سکیں گے۔
Share this content:


