انسانی حقوق کے عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ 50 دنوں کے دوران، لوگوں کو اختلافِ رائے کو دبانے کی کارروائیوں کے نتیجے میں انٹرنیٹ کی بندش، بڑے پیمانے پر بلا جواز گرفتاریوں اور نقل و حرکت پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات اظہارِ رائے، پرامن اجتماع اور تنظیم سازی کی آزادی کے حقوق کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیتے ہیں۔چونکہ 27 جولائی کو علاقائی انتخابات ہونے والے ہیں، اس لیے پاکستانی حکام کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ عوام اپنے حقوق کا استعمال آزادانہ اور بلا خوف و خطر کر سکیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ مظاہرین کے خلاف طاقت کے غیر قانونی استعمال کے الزامات کی تحقیقات کریں۔ انٹرنیٹ کی خدمات مکمل طور پر بحال کریں۔ ان افراد کو رہا کریں جنہیں اپنے حقوق کے پرامن استعمال پر بلا جواز حراست میں لیا گیا ہے۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد غیر قانونی اور مکمل پابندی ختم کریں۔
Share this content:


