انڈیا میں بار بار امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف گذشتہ ایک ماہ سے جاری شدید احتجاج کے بعد سرکردہ تنظیم ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (سی جے پی) نے اپنے دیگر مطالبات منظور ہونے پر احتجاج ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس سے قبل، ہفتے کے روز انڈیا کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے طلبہ کے شدید دباؤ کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
زیادہ تر نوجوان طلبہ پر مشتمل مظاہرین گذشتہ ماہ سے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کا مؤقف تھا کہ پرچوں کے بار بار لیک ہونے سے تعلیمی نظام کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر جاری بیان میں دھرمیندر پردھان نے اپنے استعفے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’جنتر منتر اور ملک میں جو صورتحال پیدا ہوئی ہے، ملک مخالف عناصر کو اس سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔ ملک کا اتحاد برقرار رہنا چاہیے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا کے ایک بھی طالب علم کا مستقبل قانونی پیچیدگیوں میں نہیں الجھنا چاہیے، اس لیے انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیرِ اعظم کو ارسال کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں بھی ان کے استعفے پر اصرار کر رہی تھیں۔
وزیرِ تعلیم کے استعفے کی خبر سامنے آتے ہی دہلی کے مرکزی احتجاجی مقام پر سی جے پی کے حامیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور بڑے پیمانے پر جشن منایا گیا۔
سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے جذباتی انداز میں عارضی سٹیج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے یہ کر دکھایا۔‘ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ تحریک کی جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔
دیپکے نے مطالبہ کیا کہ ’داخلہ امتحان کی منسوخی کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہلِ خانہ کو مناسب معاوضہ دیا جائے اور تنظیم اس مطالبے سے دستبردار نہیں ہوگی۔‘ انہوں نے 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس کی جانب سے ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا اور اپنے بیان کے اختتام پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’یاد رکھیں، ’کاکروچ‘ سے نہ الجھیں۔‘
سی جے پی کی حمایت میں 26 روز تک بھوک ہڑتال کرنے والے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے جمعہ کی علی الصبح اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعد وزیرِ تعلیم کے استعفے کا خیرمقدم کیا اور اسے ’جمہوریت کی فتح‘ قرار دیا۔
انہوں نے ایکس پر سی جے پی، جنریشن زیڈ اور ملک بھر کے شہریوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خوف پر قابو پا کر آواز بلند کی، اور اب احتساب کے بعد اصلاحات کی باری ہے۔
بعد ازاں، کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان کی جانب سے یہ باضابطہ اعلان سامنے آیا کہ حکومت کی طرف سے تنظیم کے دیگر مطالبات بھی تسلیم کیے جانے کے بعد احتجاج کو اب واپس لیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پارلیمنٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی نے دھرمیندر پردھان کے استعفے کو ’تعلیمی نظام کی اصلاح کی جانب ایک بڑا قدم‘ قرار دیتے ہوئے کہا، ’ان تمام نوجوانوں اور طلبہ کو دلی مبارک باد جنھوں نے جمہوریت، آئین اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکل کر ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ مجھے آپ سب پر فخر ہے۔‘
راہول گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے طلبہ سے معافی مانگنے اور مظاہرین پر تشدد کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
Share this content:


