پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے متعدد رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد یا ان کے بارے میں اطلاع فراہم کرنے والوں کے لیے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنماؤں شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، سردار امان اور خواجہ مہران کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے افراد کو ایک کروڑ روپے انعام دیا جائے گا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ مطلوب افراد کی موجودگی یا گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات فراہم کرنے والوں کی شناخت صیغۂ راز میں رکھی جائے گی۔
سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ریاض مغل نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ کالعدم تنظیم کے مذکورہ ارکان اس وقت روپوش ہیں اور پولیس ان کی تلاش میں مصروف ہے۔
ان کے مطابق جو بھی شخص ان افراد کی موجودگی کے بارے میں اطلاع فراہم کرے گا، اسے حکومتی اعلان کے مطابق انعام دیا جائے گا۔
دوسری جانب جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال پر آج تین روزسے کشمیر میں کاروباری مراکز بنداور پہیہ جام رہا۔ مختلف شہروں میں بازاروں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال دیکھی گئی جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول سے کم رہی۔جبکہ لانگ مارچ بھی شروع ہوگئی ہے ، مختلف علاقوں سے قافلے نکلے ہیں جو مظفر آباد کی طرف گامزن ہیں لیکن سیکورٹی فورسز کی جانب لانگ مارچ شرکا کو شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے اور ان پر اسٹریٹ فائرنگ بھی جاری ہے جس میں مزید کئی افراد کی ہلاکت اور متعدد کی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
Share this content:


