بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ،مزید 4 نوجوان لاپتہ

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام جبری لاپتہ آصف بلوچ سمیت دیگر لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کے لیے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

اس مظاہرے میں جبری لاپتہ افراد کے لواحقین، انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلاء، طلبہ، سیاسی و سماجی کارکنوں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

مظاہرے میں شریک شرکاء نے مطالبہ کیا کہ آصف بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جن افراد پر کسی بھی نوعیت کے الزامات ہیں، انہیں آئین و قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ شرکاء نے جبری گمشدگیوں اور لاپتہ بلوچوں کے ماورائے عدالت قتل کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے بنیادی انسانی اور آئینی حقوق کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے۔

جبری لاپتہ آصف بلوچ کی ہمشیرہ نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بھائی آصف بلوچ کو رواں سال 13 جولائی کو ایمان سٹی، کوئٹہ سے مبینہ طور پر ملکی اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ اب تک نہ تو انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کے بارے میں اہلِ خانہ کو کوئی معلومات فراہم کی گئی ہیں، جس کے باعث پورا خاندان شدید ذہنی کرب اور اذیت کا شکار ہے۔

انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ آصف بلوچ کی باحفاظت بازیابی کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ان پر کسی نوعیت کا کوئی الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق منظرِ عام پر لاتے ہوئے انہیں عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ قانونی تقاضے پورے ہوں اور اہلِ خانہ کی بے یقینی کا خاتمہ ہو۔

دوسری جانب بلوچستان کے مختلف اضلاع سے اطلاعات ہیں کہ پاکستانی فو ج نے مزید 3 افراد کو حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے جبکہ ایک نوجوان کے پرسرار طور پر لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق 21 جولائی 2026 کی صبح کوئٹہ کے علاقے کلی الماس، ایئرپورٹ روڈ پر پاکستانی فوج نے گھروں پر چھاپوں کے دوران حافظ عبدالنافع بلوچ ولد محمد ابراہیم بلوچ اور بیبرگ بلوچ ولد عین الدین بلوچ کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا۔

ذرائع کے مطابق دونوں کو آئی ایس آئی اور سی ٹی ڈی اہلکار اپنے ساتھ لے گئے، تاہم ان کے بارے میں تاحال کوئی معلومات سامنے نہیں آسکی ہیں۔

دریں اثناء خاران کے رہائشی میران بلوچ ولد گل خان کو 23 جولائی 2026 کی شام کوئٹہ کے بشیر چوک سے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کردیا۔

خاندان کے مطابق میران بلوچ کو تیسری مرتبہ جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

دوسری جانب گلشن آباد، تربت کے رہائشی 18 سالہ نوجوان حمل ولد عادل رشید گزشتہ روز جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لیے گھر سے نکلے، تاہم اس کے بعد سے لاپتہ ہیں اور اہلِ خانہ کا ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔

اہلِ خانہ کے مطابق حمل جمعہ کی نماز کے لیے گئے تھے، لیکن تاحال واپس نہیں آئے، جس کے باعث گھر والے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان کی ہر ممکن جگہ تلاش کی جا رہی ہے، تاہم اب تک ان کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

لواحقین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی شخص کو حمل کے بارے میں کوئی معلومات ہوں یا وہ کہیں نظر آئیں تو فوری طور پر اہلِ خانہ کو آگاہ کریں۔

Share this content: