خطے میں انٹرنیٹ کی بندش پر سیاسی اشرافیہ کی خاموش خوشی، عوامی حلقوں میں تشویش

میرپور/مظفرآباد/ نمائندہ خصوصی

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 5 اور 6 جون کی درمیانی شب سے معطل موبائل انٹرنیٹ سروس 49 روز گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔ گزشتہ روز میرپور ڈویژن میں سروس جزوی طور پر بحال کی گئی، تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی رفتار انتہائی سست ہے اور معمول کی آن لائن سرگرمیوں کے لیے بھی ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں برقرار ہے جب خطے میں 27 جولائی کو گیارہویں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ انتخابی مہم اپنے عروج پر ہونی چاہیے تھی، مگر طویل انٹرنیٹ بندش نے سیاسی سرگرمیوں کا رخ نمایاں طور پر تبدیل کر دیا ہے۔

انٹرنیٹ کی مسلسل بندش کے باعث آن لائن کام کرنے والے ورکرز، طلبہ اور ریسرچرز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ عام شہری بیرونِ ملک مقیم اپنے اہلِ خانہ سے رابطہ نہیں کر پا رہے، جبکہ بیرونِ ملک مقیم کشمیری بھی اپنے پیاروں کی خیریت سے بروقت آگاہ نہ ہونے کے باعث ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔

دوسری جانب دو روز قبل حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک امیدوار نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں اعتراف کیا کہ انٹرنیٹ بند رہنے سے انہیں سیاسی فائدہ پہنچا۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید اور عوامی ردعمل محدود ہونے سے انتخابی مہم نسبتاً آسان رہی۔

اس بیان نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ طویل انٹرنیٹ بندش صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ اس کے سیاسی اثرات بھی نمایاں ہیں۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی تحریک کے دوران ریاستی اداروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا، جبکہ مواصلاتی ذرائع کی بندش نے اطلاعات کی آزادانہ ترسیل کو بھی متاثر کیا۔

انٹرنیٹ کی عدم دستیابی نے نہ صرف صحافیوں کے لیے رپورٹنگ کو مشکل بنایا بلکہ شہریوں کی آواز بھی محدود کر دی۔ احتجاج، گرفتاریوں اور دیگر واقعات سے متعلق تصاویر، ویڈیوز اور معلومات بروقت بیرونی دنیا تک نہیں پہنچ سکیں، جس سے اظہارِ رائے کی آزادی اور معلومات تک رسائی کے حوالے سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں انتخابی مقابلہ بھی غیر مساوی دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی انتخابی مہم روایتی جلسوں اور محدود ملاقاتوں تک سمٹ چکی ہے، جبکہ دوسری جانب سوشل میڈیا، جو گزشتہ انتخابات میں انتخابی مہم کا اہم ذریعہ بن چکا تھا، تقریباً غیر مؤثر ہو گیا ہے۔

مبصرین کے مطابق سوشل میڈیا پر عوامی احتساب، سوالات اور تنقید محدود ہونے سے بعض سیاست دانوں کو نسبتاً کم دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ مخالف بیانیے کی رسائی بھی کم ہو چکی ہے۔

اس صورتحال میں بنیادی سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ اگر انتخابات آزادانہ رائے کے اظہار، معلومات تک مساوی رسائی اور سیاسی مقابلے کے اصولوں پر مبنی ہوتے ہیں تو کیا طویل انٹرنیٹ بندش ان اصولوں سے مطابقت رکھتی ہے؟

سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ اگر بعض امیدوار واقعی اس بندش کو اپنے لیے فائدہ مند سمجھتے ہیں تو اس سے انتخابی عمل کی شفافیت، برابری اور عوامی اعتماد کے حوالے سے مزید سوالات اٹھنا ناگزیر ہیں۔

Share this content: