مظفرآباد / رپورٹ: فرحان طارق
پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر شروع ہونے والی پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال آج چوتھے روز بھی مکمل شدت کے ساتھ جاری ہے۔
دارالحکومت مظفرآباد سمیت خطے کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں کاروباری مراکز، بینکس اور یہاں تک کہ میڈیکل اسٹورز بھی مکمل طور پر بند ہیں، جس کے باعث نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
دارالحکومت مظفرآباد کی تمام اہم شاہراہیں اور سڑکیں سنسان ہیں، تاہم کسی بھی ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی جانب سے مسلسل فلیگ مارچ کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، راولاکوٹ سے مقامی صحافی اجمل شاہین نے مخدوش صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ شہر کی مساجد سے مسلسل ایسے اعلانات کیے جا رہے ہیں جن میں شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے کی تاکید کی جا رہی ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ باہر کرفیو نافذ ہے۔ تاہم، انتظامیہ یا سرکاری سطح پر کرفیو کے نفاذ کی تاحال کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
مختلف اضلاع سے مظفرآباد کی جانب بڑھنے والے احتجاجی قافلوں کی صورتحال درج ذیل ہے:
پونچھ اور میرپور ڈویژن: میرپور ڈویژن سے روانہ ہونے والے بڑے قافلے پونچھ کے علاقے ہجیرہ سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ جبکہ تحصیل تھوراڑ سے نکلنے والا ایک اور قافلہ راولاکوٹ کے قریب ‘کھڈ’ کے مقام پر رکا ہوا ہے۔
ضلع سدھنوتی: سدھنوتی سے آنے والا قافلہ اس وقت بنجوسہ کے مقام پر موجود ہے۔
ضلع باغ: باغ کے نواحی علاقوں میں عوام کا بڑا اجتماع دیکھا جا رہا ہے، جہاں تحصیل ریڑہ سے نکلنے والے ایک قافلے نے تولی پیر کے راستے راولاکوٹ شہر کی طرف پیش قدمی شروع کر دی ہے۔
ڈی چوک پوزیشن: مقامی صحافی خورشید بیگ کے مطابق، راولاکوٹ کے ڈی چوک میں اس وقت فورسز کی ایک بھاری نفری الرٹ پوزیشن میں تعینات ہے۔
محکمہ پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انتہائی اہم معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مظفرآباد سے علی الصبح ہیلی کاپٹرز کے ذریعے رینجرز کے دستوں کو راولاکوٹ منتقل کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، راولاکوٹ کے مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ فورسز کی جانب سے پورے شہر اور احتجاجی راستوں کی نگرانی کے لیے ڈرون اور ہیلی کاپٹرز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
خطے کے وزیرِ اعظم فیصل ممتاز راٹھور 9 اور 10 جون کی درمیانی شب مظفرآباد پہنچے، جہاں انہوں نے کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ اجلاس کے فوری بعد وہ دوپہر کو واپس اسلام آباد روانہ ہو گئے۔ وزیر ہائر ایجوکیشن ملک ظفر کے مطابق، وزیرِ اعظم فیصل راٹھور کی اسلام آباد میں وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف سے اہم ترین ملاقات متوقع ہے، جس میں خطے کی موجودہ نازک صورتحال اور عوامی مطالبات کے حل پر حتمی بات چیت ہو گی۔ انتظامیہ کے مطابق، دوپہر دو بجے تک مظفرآباد میں کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ رپورٹ نہیں ہوا اور مجموعی طور پر امن و امان قائم ہے۔
علاقے میں معلومات تک رسائی کو روکنے کے لیے 6 جون کی رات 11 بجے سے بند کی جانے والی موبائل انٹرنیٹ سروس مسلسل چوتھے روز بھی مکمل طور پر معطل ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور زمینی حقائق کی مکمل تفصیلات باہر پہنچنے میں شدید تعطل پیدا ہو رہا ہے۔
Share this content:


