پاکستانی کشمیر میں ریاستی کریک ڈاؤن پر برطانوی پارلیمنٹ کا سخت ردِعمل، برطانوی شہریوں کی گرفتاری پر تشویش

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر (آزاد کشمیر) میں جاری شدید تناؤ، انٹرنیٹ بلیک آؤٹ اور عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کی گونج برطانوی پارلیمنٹ میں بھی سنائی دینے لگی ہے۔ جموں و کشمیر پر قائم برطانوی پارلیمنٹ کے آل پارٹی پارلیمانی گروپ (APPG) کے چیئرمین عمران حسین (ایم پی) کی قیادت میں درجنوں برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ نے برطانوی وزیرِ خارجہ کو ایک ہنگامی خط لکھ کر خطے کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ (بشمول طاہر علی، یاسمین قریشی، ناز شاہ، جیرمی کوربن اور دیگر) کی جانب سے سیکریٹری خارجہ کو بھیجے گئے مشترکہ خط میں کہا گیا ہے کہ آزاد کشمیر میں جاری مکمل لاک ڈاؤن اور انٹرنیٹ و موبائل سروسز کی بندش (مواصلاتی بلیک آؤٹ) کے باعث برطانیہ میں مقیم لاکھوں برطانوی کشمیری اپنے آبائی وطن میں موجود رشتہ داروں اور پیاروں سے رابطہ کرنے سے قاصر ہیں۔ اس صورتحال نے برطانوی کشمیری کمیونٹی میں شدید تشویش، بے چینی اور ذہنی اذیت پیدا کر دی ہے، اور وہ اپنے خاندانوں کی حفاظت کے حوالے سے سخت فکر مند ہیں۔

خط میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ آزاد کشمیر میں جاری حالیہ کریک ڈاؤن کے دوران بڑے پیمانے پر سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریاں عمل میں لائی جا رہی ہیں، جن میں مبینہ طور پر بعض برطانوی شہری (British Nationals) بھی شامل ہیں۔ اراکینِ پارلیمنٹ نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ حساس اور کشیدہ سیاسی ماحول میں مواصلاتی روابط کو معطل کرنا اور بات چیت کے راستے بند کرنا غیر یقینی صورتحال کو بڑھاتا ہے، جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

برطانوی پارلیمنٹیرینز نے اپنی حکومت اور دفترِ خارجہ (FCDO) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین معاملے پر فوری طور پر متحرک ہو اور درج ذیل اقدامات اٹھائے:

برطانوی حکومت اپنے تمام دستیاب سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے پاکستانی حکام پر زور دے کہ وہ خطے میں فوری طور پر انٹرنیٹ اور مواصلاتی روابط بحال کرے۔

آزاد کشمیر کی انتظامیہ اور جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) کے نمائندوں کے درمیان پرامن مذاکرات اور بامقصد گفتگو کا عمل دوبارہ شروع کرانے کے لیے سفارتی کردار ادا کیا جائے۔

برطانوی دفترِ خارجہ وہاں موجود برطانوی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے اور خطے میں انسانی حقوق کی صورتحال کی کڑی نگرانی کے لیے ہنگامی اقدامات کرے۔

خط کے آخر میں اراکینِ پارلیمنٹ نے اصرار کیا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام اور برطانیہ میں مقیم کشمیری کمیونٹی امن، استحکام اور اپنے جائز معاشی و سیاسی مطالبات کا حل چاہتے ہیں، اور ان کے مسائل کو طاقت یا جبر کے بجائے صرف اور صرف پرامن ڈائیلاگ (مذاکرات) کے ذریعے ہی حل کیا جانا چاہیے۔

Share this content: