ڈڈیال/ کاشگل نیوز
پاکستان زیر انتظام جموں و کشمیر کے علاقے ڈڈیال میں پولیس نے احتجاجی سرگرمیوں میں مبینہ شرکت کے الزام میں مہران خواجہ، ناظم کشمیری سمیت متعدد افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مقدمے میں جموں و کشمیر پینل کوڈ کی مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں، جن میں دفعہ 147 (فساد)، 148 (مہلک ہتھیار کے ساتھ فساد)، 149 (مشترکہ ذمہ داری)، 188 (حکومتی احکامات کی خلاف ورزی)، 505 (عوام میں خوف و ہراس اور انتشار پھیلانا)، 341 (راستہ روکنا)، 124-A (ریاست کے خلاف بغاوت) اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 6 شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق مقدمے میں متعدد افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ مزید افراد کی شناخت ویڈیو ریکارڈنگز اور دیگر شواہد کی مدد سے کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مقدمے میں نامزد بیشتر افراد کا تعلق عوامی ایکشن کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے بتایا جاتا ہے، جو حالیہ احتجاجی تحریک میں متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے مقدمات کے اندراج پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے عوامی حقوق کی جدوجہد کو دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
کمیٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کے بنیادی مطالبات حل کرنے کے بجائے مقدمات اور گرفتاریوں کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی پالیسی اختیار کر رہی ہے۔
کمیٹی نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ صورتحال کا نوٹس لیں اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
حکام کی جانب سے تاحال اس معاملے پر تفصیلی سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا۔
Share this content:


