جموں کشمیر عوامی تحریک کی حمایت پرپنجاب میں کریک ڈائون ، بائیں بازو کے متعددرہنما گرفتار

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں جاری عوامی حقوق کی تحریک کے حق میں آواز اٹھانے پر پنجاب میں بھی کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

پنجاب پولیس نے لاہور میں جموں کشمیر کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے منعقدہ احتجاجی مظاہرے پر کارروائی کرتے ہوئے بائیں بازو (Left-Wing) کے متعدد سرکردہ رہنماؤں کو گرفتار کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، پنجاب پولیس نے یکجہتی مظاہرے پر دھاوا بول کر درج ذیل اہم سیاسی و طلباء رہنماؤں کو حراست میں لیا ہے:

اویس قرنی: چیئرمین ریولوشنری اسٹوڈنٹس فرنٹ (RSF) اور ایڈیٹر ایشین مارکسسٹ ریویو۔

احسن جاوید: آرگنائزر پروگریسیو اسٹوڈنٹس کلیکٹو (PSC)۔

حماد کاکڑ: بائیں بازو کے متحرک سیاسی کارکن۔

یہ رہنما راولاکوٹ، کوٹلی اور مظفرآباد میں فورسز کے کریک ڈاؤن، اسٹریٹ فائرنگ اور ہلاکتوں کے خلاف نہتے کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہونے اور ان کے معاشی و آئینی مطالبات کے حق میں پرامن احتجاج ریکارڈ کرا رہے تھے۔

ان گرفتاریوں پر ترقی پسند حلقوں، طلباء تنظیموں اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامیوں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔

بی این پی، ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں اور حقوقِ انسانی کے کارکنان نے اس حکومتی ایکشن کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

مظاہرین اور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ "یہ گرفتاریاں اس خوفناک حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ ریاست صرف جموں کشمیر کی جغرافیائی حدود کے اندر ہی جبر نہیں کر رہی، بلکہ پاکستان کے دیگر صوبوں (پنجاب، بلوچستان، سندھ) میں بھی اس عوامی تحریک کے حق میں ابھرنے والی ہر سیاسی اور فکری آواز کو طاقت کے زور پر دبانا چاہتی ہے۔”

مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں نے پنجاب حکومت اور پولیس انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اویس قرنی، احسن جاوید، حماد کاکڑ اور ان کے دیگر ساتھیوں کے خلاف درج کیے گئے جھوٹے مقدمات فوری خارج کیے جائیں اور انہیں فی الفور رہا کیا جائے۔ کارکنان نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ایسے جابرانہ ہتھکنڈوں اور گرفتاریوں سے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کی اس مہم کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔

پنجاب پولیس یا صوبائی حکومت کی جانب سے ان گرفتاریوں کی وجوہات اور دفعات کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

Share this content: