راولاکوٹ اور میرپور میں ہلاکتوں کی تفاصیل اور صورتحال
کاشگل نیوزخصوصی رپورٹ
پاکستان زیرِ انتظام کشمیر میں لانگ مارچ کو روکنے کے لیے پاکستانی فورسز کی جارحیت دوسرے روز بھی جاری رہی۔ دو روز کے دوران راولاکوٹ میں کم از کم 34 اور میرپور میں 2 سویلینز کی فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے، جس سے مجموعی اموات 36 ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب میرپور میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فائرنگ سے 6 افراد کی جان گئی ہے۔ 5 جون سے 28 جولائی تک جاری اس احتجاج کے دوران فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 81 سویلین جانیں جا چکی ہیں۔
منگل کے روز مارچ کے شرکاء نے بلدیہ اڈہ، کھڑک روڈ اور ڈی چوک سے راولاکوٹ شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم فورسز کی بھاری نفری نے فائرنگ اور شیلنگ کر کے ان کا راستہ روکے رکھا۔ فائرنگ کا یہ سلسلہ رات 12 بجے تک وقفے وقفے سے جاری رہا، جس کے دوران منگل کو 12 اور پیر کے روز 22 اموات کی تصدیق ہوئی۔
ہلاک ہونے والے افراد کے نام اور آبائی علاقے
منگل کے روز راولاکوٹ میں ہلاک افراد: اسامہ جمیل (منگ، سدھنوتی)، رومان محمود (بیروٹہ پاچھیوٹ)، ابرار حسرت (ہورنہ میرہ)، سردار شہباز (ٹاہلیان، سدھنوتی)، قاری عبدالباسط (نڑ کوٹھیاں، تھوراڑ)، جاوید یاسین (منگ، سدھنوتی)، شوکت حیات (متیالمیرہ)، عبدالرزاق ولد اسحاق (دھینگڑوں، منگ)، رضوان اسلم (منگ، سدھنوتی)، محمد عزیز خان (راولاکوٹ)، شہباز مشتاق (کھڑک)، حسام بنارس (دریک، راولاکوٹ)۔
منگل کے روز میرپور (بن خرماں) میں ہلاک افراد: راجہ توقیر عالم (بن خرماں، میرپور) اور امام مسجد عنایت اللہ (ساکن کھاریاں، جہلم)۔
پیر کے روز راولاکوٹ میں ہلاک افراد: عثمان نذیر (بھائی عمر نذیر کشمیری)، نعیم بٹ (ساکن کوٹلی)، نثار شاہین (پکھوناڑ، بلوچ)، کاشف یعقوب (راولاکوٹ)، سردار فدا حسین (گڑالہ تراڑکھل)، مزمل اسحاق (علی سوجل)، باسط شاہ (ہجیرہ)، فہیم افضل (چھوتا گلہ)، کامران مشتاق (ہجیرہ)، زرغام خلیل (دریک)، ثاقب حنیف (ریڑھ بن)، ثاقب اسحاق (نمب گوارہ، پلندری)، اریل اصغر (تتہ پانی)، عثمان گل (دریک ڈھوک)، جفیر پہلوان (پپے ناڑ، تراڑکھل)، علی حسین (کھڑی شریف)، خواجہ ابرار لطیف ڈار (خورشید آباد، حویلی)، کامران حفیظ (کہوٹہ، حویلی)، سہیل مقبول (بائی بھیکھ)، تابش قیوم (چھوٹا گلہ) اور فرخ عزیز (انیاری، راولاکوٹ)۔
ہلاک ہونے والے نوجوانوں کی میتیں منگل کے روز ان کے آبائی علاقوں میں پہنچیں جہاں نمازِ جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، جبکہ کچھ میتیں ورثاء تک پہنچانے میں مشکلات کی اطلاعات ہیں۔
زخمیوں کی حالت اور ہسپتالوں کی صورتحال
دو روز کے دوران راولاکوٹ اور دیگر علاقوں میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے 50 سے زائد افراد منگل کے روز زخمی ہوئے۔ ہسپتال منتقل کیے جانے والے زخمیوں میں منیر ولد رشید، واجد عارف، حیدر ضیا ولد امجد، رویل زرین، نجیب ولد رزاق، عبدالافضل ولد افضل، اعجاز ولد سوالات، تیمور پرویز، امجد شبیر، افضل مکھن، تیمور فضل، عبدالرزاق، منیب، افضل، عاقب طالب اور محمد فاروق خان شامل ہیں۔
نیلم اور کوٹلی میں احتجاج اور جھڑپیں
منگل کے روز وادی نیلم سے بھی مارچ کے شرکاء نے مظفرآباد کی طرف بڑھنے کی کوشش کی جنہیں فورسز نے روک لیا۔ وہاں فائرنگ اور شیلنگ کے باعث متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ مقامی ذرائع کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر خواجہ مجتبیٰ بانڈے بھی گولی لگنے سے زخمی ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کوٹلی کی تحصیلوں کھوئی رٹہ اور چڑھوئی میں بھی شدید احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور راولاکوٹ کریک ڈاؤن کی مذمت کی گئی۔
سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کو آزاد پتن پر روک دیا گیا
پاکستان رائٹس موومنٹ کے رہنما اور سابق سینیٹر مشتاق احمد خان چند ساتھیوں کے ہمراہ اسلام آباد سے راولاکوٹ جا رہے تھے، تاہم پونچھ کے داخلی راستے ‘آزاد پتن’ پر پولیس نے ناکہ بندی کر کے انہیں روک لیا اور پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔
میرپور ڈویژن الیکشن: ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں تنازع
ادھر میرپور ڈویژن میں کرفیو اور ریاستی جبر کے سائے میں ہونے والے انتخابات کے بعد سیاسی کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے جہاں ن لیگ اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے ہیں۔ الیکشن کمیشن اور مسلم لیگ (ن) کا دعویٰ ہے کہ ٹرن آؤٹ 50 فیصد سے زائد رہا اور ن لیگ نے 13 میں سے 9 نشستیں جیت لی ہیں۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی نے ان نتائج کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرن آؤٹ 25 فیصد سے بھی کم تھا اور جعلی ووٹوں کے ذریعے ن لیگ کو فاتح قرار دیا گیا ہے۔
٭٭٭
Share this content:


