راولاکوٹ فائرنگ وقتل عام پر اقوامِ متحدہ سے فوری مداخلت کی اپیل، ہنگامی یادداشت جمع

جموں کشمیر ہیومن رائٹس آبزرویٹری (JKHRO) کی جانب سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے پرامن لانگ مارچ پر سیکیورٹی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ، شیلنگ اور جانی نقصان کے خلاف اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، والکر ترک (Mr. Volker Türk) کے نام ایک ہنگامی یادداشت جینیوا میں یو این دفتر میں جمع کروا دی گئی ہے۔

یادداشت میں خطے کی تشویشناک صورتحال پر عالمی ادارے سے فوری اور مؤثر احتیاطی و انسانی مداخلت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

جمع کروائی گئی دستاویز کے مطابق، 27 جولائی 2026 کو راولاکوٹ اور لانگ مارچ روٹ پر فورسز کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے 15 افراد کی ابتدائی فہرست فراہم کی گئی ہے، جبکہ 2 دیگر نامعلوم ہلاکتوں سمیت مجموعی طور پر 17 اموات کی رپورٹ ہے۔

تنظیم نے واضح کیا ہے کہ ہلاکتوں کی یہ تعداد ابھی حتمی نہیں ہے اور اس کی مزید تصدیق کا عمل جاری ہے۔ اس کے علاوہ، ابتدائی اطلاعات کے مطابق 80 سے زائد افراد زخمی ہیں جن کی تعداد عینی شاہدین کے مطابق اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

دستاویز میں ہائی کمشنر والکر ترک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ درج ذیل اقدامات کے لیے فوری مداخلت کریں:

1۔فائرنگ کو فوری طور پر رکوانے اور پرامن شہریوں کے خلاف لائیو ایمونیشن (اصلی گولیوں) کا استعمال بند کرنے کے لیے سرعام اپیل کی جائے۔
2۔پاکستان میں موجود یو این ریزیڈنٹ اینڈ ہیومینیٹیرین کوآرڈینیٹر (محمد یحییٰ) اور یو این کنٹری ٹیم کو ہنگامی بنیادوں پر فعال کیا جائے۔
3۔زخمیوں کے لیے فوری طبی امداد اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر راستوں تک رسائی کو یقینی بنایا جائے۔
4۔راولاکوٹ اور متاثرہ علاقوں میں انٹرنیٹ، موبائل اور ٹیلی فون سروسز کو فوری بحال کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔
5۔حقائق کی آزادانہ تحقیقات کے لیے او ایچ سی ایچ آر (OHCHR) کے اسیسمنٹ مشن یا اسپیشل رپورٹرز کو فوری طور پر راولاکوٹ بھیجا جائے۔
6۔ مزید جانی نقصان کو روکنے کے لیے متعلقہ حکام اور عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کے درمیان بامعانی اور معتبر مذاکرات کی سہولت کاری کی جائے۔

یادداشت میں اقوامِ متحدہ کو خبردار کیا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر عوامی اجتماع، فورسز کی بھاری تعیناتی، مواصلاتی بلیک آؤٹ اور ایمرجنسی طبی امداد میں رکاوٹ کے باعث صورتحال مزید بھیانک رخ اختیار کر سکتی ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اب سوال یہ نہیں کہ صورتحال مزید خراب ہوگی یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اقوامِ متحدہ کا نظام مزید ہلاکتوں کو روکنے کے لیے خاطر خواہ تیزی سے حرکت میں آئے گا یا نہیں۔

Share this content: