کشمیر میں عوامی تحریک پر ریاستی بربریت پاکستان کے جبر کے نظام کو بے نقاب کر رہی ہے،بلوچ یکجہتی کمیٹی

بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کشمیر میں عوامی حقوق کی تحریک کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال، براہِ راست فائرنگ، سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور شہریوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ہم ان اقدامات کو اس وسیع ریاستی پالیسی کا حصہ سمجھتے ہیں جس کے تحت عوامی آوازوں اور سیاسی مزاحمت کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ عوامی مطالبات کا جواب سیاسی عمل کے بجائے گولی، گرفتاری اور جبر سے دینا اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاستِ پاکستان اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دیتی ہے۔

کشمیر میں گزشتہ 52 روز سے جاری عوامی تحریک اس امر کا واضح اظہار ہے کہ محکوم اقوام اپنے بنیادی حقوق، وسائل، شناخت اور سیاسی اختیار کے لیے جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوتیں۔ تاہم، ان مطالبات کو سننے اور ان کا سیاسی حل تلاش کرنے کے بجائے ریاست نے طاقت کا راستہ اختیار کیا، جس کے نتیجے میں براہِ راست فائرنگ، تشدد، گرفتاریوں اور محاصروں کے ذریعے عوامی تحریک کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ریاستی فائرنگ کے نتیجے میں متعدد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے نزدیک یہ صورتحال اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ ریاست عوامی مطالبات کا سیاسی حل نکالنے کی صلاحیت اور آمادگی سے محروم ہو چکی ہے۔ اسی وجہ سے وہ منظم عوامی شعور، اجتماعی مزاحمت اور سیاسی بیداری سے خوفزدہ ہو کر جبر اور طاقت کا سہارا لے رہی ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی سمجھتی ہے کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال بلوچستان، پشتونخوا، سندھ اور دیگر محکوم خطوں میں اختیار کی جانے والی انہی پالیسیوں کا تسلسل ہے، جہاں عوامی حقوق، وسائل اور سیاسی اختیار کے مطالبات کو سیاسی مسئلہ تسلیم کرنے کے بجائے طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جو ریاست محکوم قوموں کے وسائل پر قبضے اور انہیں جبر کے ذریعے خاموش رکھنے کی بنیاد پر قائم ہو، وہ مکالمے اور انصاف کے بجائے بندوق، تشدد اور ریاستی طاقت کو اپنی حکمرانی کا بنیادی ذریعہ بناتی ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوامِ متحدہ کے متعلقہ اداروں اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ پاکستان میں عوامی حقوق کی تحریکوں کے خلاف طاقت کے استعمال، ماورائے قانون اقدامات، غیرقانونی گرفتاریوں، شہری آزادیوں پر قدغن اور احتجاج کے بنیادی حق کی خلاف ورزیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان واقعات کی آزاد، غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے، اور بین القوامی فورم پر پاکستان کا احتساب کیا جائے، اور پاکستان پر مؤثر سفارتی و قانونی دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے، طاقت کے استعمال کا خاتمہ کرے، اور تمام شہریوں کے بنیادی حقوق، بالخصوص پرامن اجتماع، اظہارِ رائے اور سیاسی شرکت کے حق کا احترام یقینی بنائے۔

Share this content: