رپورٹ: فرحان طارق
حکومتی نوٹیفکشن کے باوجود پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں آٹھویں روز بھی پہیہ جام شٹر ڈاون ہڑتال جاری رہی۔
تمام کاروباری مراکز لاری اڈے بینک تعلیمی ادارے مکمل بند دیکھائی دے رہے ہیں۔
خطے میں پانچ اور چھ جون سے بند ہونے والی انٹرنیٹ سروس تا حال بحال نہ ہو سکی۔اور یوں انٹرنیٹ سروس کو غائب ہوۓ گیارہ روز بیت گے۔
راولاکوٹ دریک عیدگاہ کے مقام پر جیک کا دھرنا بھی جاری ہے۔ تاہم راولاکوٹ میں بعض مقامات پر موبائل سروس بھی بند کر دی گی ہے۔
گزشتہ روز مظفرآباد نلوچھی میں احتجاج کے دوران گرفتار کی جانے والی خواتین کو تاحال کسی عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکا۔
داراکحکومت مظفرآباد کو دیگر اضلاع سے ملانے والی متعدد رابطہ سڑکوں کو مقامی انتظامیہ کی جانب سے مٹی ڈال کر اور خندقیں کھود کر سفر کےلیے نا قابل استعمال بنایا گیا ہےاس سے یوں لگتا ہے حکومت مظاہرین سے خوفزدہ ہے۔
کشمیر قانون سازی اسمبلی کا اجلاس دن بارہ بجےشروع ہوا تھا۔
اجلاس ایجنڈے میں امریکہ ایران کے درمیان امن معاہدے کو زیر بحث لایا گیا اور چند روز قبل فوجی ہیلی کیپٹر میں ہلاک ہونے والے اہکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
دوسری جانب راولاکوٹ کے مقامی صحافی ملک اعجاز قمر نے بتایا کہ راولاکوٹ میں آٹے ، پٹرول اور ایل پی جی گیس سلنڈرذ کی قلت دن بدن زور پکڑ رہی ہے۔
Share this content:


