اسلام آباد / مظفرآباد /کاشگل نیوزویب ڈیسک
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ کی مسلسل بندش اور خطے کی جسمانی ناکہ بندی (Physical Blockade) پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے تمام مواصلاتی خدمات اور راستے فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی احتجاجی کال کے ردعمل میں 5 جون سے نافذ کی جانے والی انٹرنیٹ کی بندش کو آج مسلسل 12واں روز ہے، جبکہ موبائل نیٹ ورک سروسز بھی وقفے وقفے سے معطل کی جا رہی ہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ اس انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن کے نتیجے میں خطے میں معلومات کا مکمل بلیک آؤٹ ہو چکا ہے، جس سے عام شہریوں کی ضروری خدمات اور معلومات تک رسائی شدید متاثر ہوئی ہے۔ مزید برآں، اس بلیک آؤٹ کی وجہ سے خطے میں انسانی حقوق کی ممکنہ خلاف ورزیوں کی دستاویزی تصدیق (Documentation) کا عمل بھی رک گیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ احتجاجی کال کے پیشِ نظر خطے کے اہم داخلی اور خارجی راستوں کی جسمانی ناکہ بندی بھی کی گئی ہے۔ اس ناکہ بندی کے باعث خطے میں اشیائے خورد و نوش (خوراک) اور ادویات سمیت انتہائی ضروری اور بنیادی سامان کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے واضح کیا ہے کہ اس قسم کی سخت پابندیاں غیر متناسب ہیں جو براہِ راست عوام کے جینے کے حق، صحت کی دیکھ بھال تک رسائی اور نقل و حرکت کی آزادی (Freedom of Movement) کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
عالمی ادارے نے حکومت اور متعلقہ حکام پر زور دیا ہے کہ آزاد کشمیر میں تمام مواصلاتی اور انٹرنیٹ سروسز کو فوری اور مکمل طور پر بحال کیا جائے۔ نقل و حرکت اور رابطوں پر عائد تمام غیر قانونی پابندیاں فی الفور اٹھائی جائیں۔ خطے تک ضروری سامان اور امداد کی بلاروک ٹوک اور بلا تاخیر رسائی کو یقینی بنایا جائے۔
Share this content:


