پہاڑ، کتاب اور مزاحمت ۔۔۔۔ حبیب رحمان

آزاد جموں کشمیر کے پہاڑوں کے دامن میں پروان چڑھتے نوجوان، جو کسی کالج یا یونیورسٹی میں بیٹھے باتیں کرتے ہیں، ان سے پاکستانی ریاست پریشان ہے۔ کسی لائبریری میں بیٹھے نوجوان سے خائف ہے اور وہ اس کتاب کو ڈھونڈ رہی ہے جو اس نوجوان کے ہاتھ میں ہے، اور نوجوان کے سوال سے خوف زدہ ہے۔ اس خطے کے نوجوان جب خاموش، مدھر گیتوں سے بھرے پہاڑوں سے نیچے اتر کر پاکستان کے میدانوں میں روٹی کی تلاش میں نکلتے ہیں تو انہیں ہر لمحہ اپنے ہونے اور نہ ہونے کا احساس جاگتا ہے۔ تو وہ خود سے سوال کرتا ہے کہ میں کون ہوں اور کیوں ہوں؟ میرے حصے میں ذلت اور دربدری کیوں ہے؟ اور کس نے یہ بربادی میرے ماتھے پر لکھی ہے؟

یہ سوال اسے تاریخ کے ایسے پاتال میں لے جاتا ہے جہاں اسے اپنی سرزمین کے لٹنے اور اس کے فرزندوں سے سب کچھ چھین کر قابض نے اپنے جبر کو قائم کیا ہے۔ تاریخ کا یہی شعور اس کو سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے، اور سوال کی یہ مجبوری اسے گفتگو اور بحث کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ یہ گفتگو وہ چھپر نما چھوٹے چھوٹے چائے خانوں میں ایک بن اور ایک کپ چائے کے سہارے کرتا ہے۔

میں بے توقیر کیوں ہوں؟ اپنی سرزمین پر رہتے ہوئے جلا وطن جیسی زندگی کیوں گزار رہا ہوں؟ میری زمین پر مجھے ملکیت حاصل کیوں نہیں ہے؟ پھر اسے یہ بات سمجھ آ جاتی ہے کہ طاقت اور جبر نے اس سے سب کچھ چھین لیا ہے۔ اس کی پچھلی نسل نے صرف اپنی محنت تذلیل کے ہاتھوں بیچ کر اپنی اولادوں کو پالا ہے۔ غربت اور محرومی کا زہر پیا ہے، اور غربت و محرومی کا یہ زہر اگلی نسل کو منتقل کر دیا ہے۔

تو پھر وہ کتاب ڈھونڈتا ہے، اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے سوال کرتا ہے، اور یہی سوال اسے مجرم بنا دیتا ہے۔ پھر قابض ریاست اسے اسٹیگمائزڈ کر دیتی ہے، اس کے ماتھے کو کالے جھوٹوں سے بھر دیتی ہے، اسے مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیتی ہے، اس پر فرضی کہانیاں مسلط کر کے اسے قتل کر دیتی ہے، پھر ان کی معصوم لاشوں پر رقص کرتی ہے، قاتلوں کو انعامات سے نوازتی ہے، اور سڑک پر کھڑے اس نوجوان کو بھی گولی مار دیتی ہے جو صرف اپنے لیے روٹی کا سوال اٹھاتا ہے، جو غلامی سے نفرت اور آزادی کا خواب دیکھتا ہے۔

پھر قابض ریاست ایک بیانیہ ترتیب دیتی ہے کہ تم ایسی کوئی بات نہیں بول سکتے، بلکہ سوچ بھی نہیں سکتے جو قابض کی مرضی کے خلاف ہو۔ تم اپنی مرضی سے سفر بھی نہیں کر سکتے۔ اسے کنٹرول لسٹ میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ اگر وہ کسی دوسرے ملک میں مزدوری کر کے واپس کچھ وقت اپنے گھر والوں کے پاس گزارنے آئے تو اسے ہوائی اڈے سے ہی اٹھا کر غائب کر دیا جاتا ہے۔

اس جبر اور قتل عام کا کوئی مقصد نہیں، سوائے اس کے کہ بولنا بند کرو، سوال اٹھانا بند کرو، اپنے وجود کے ہونے کی تکرار نہ کرو۔ لیکن اس سب کے باوجود یہ نوجوان سڑک پر کھڑا گولیاں بھی کھا رہا ہے، زخم بھی سہہ رہا ہے، بیرونی ایجنٹ ہونے کی غلیظ ترین گالی بھی برداشت کر رہا ہے، لیکن تذلیل سہنے سے انکار کر رہا ہے۔ آزاد رہنے کا سوال اور زور سے اٹھا رہا ہے۔

قابض ریاست مزید جبر کرتی ہے۔ قابض کی اپنی بنائی ہوئی سیاسی جماعتیں اس جبر و قتل عام کو جائز ٹھہراتی ہیں۔ وقت سے پیچھے رہ جانے والی قوم پرستی اور ترقی پسندی تشریح اور تجزیے کی میز سے اٹھ نہیں پا رہی۔ سبھی اس نوجوان کو قصوروار ٹھہراتی ہیں۔

اس سب کے باوجود بھی یہ نوجوان، جو پہاڑوں کے پہلو میں بیٹھا کسی کالج، یونیورسٹی، کالج کی کینٹین، کسی بس اڈے، کسی ورکشاپ یا لائبریری میں بیٹھا سوچتا اور سوال کرتا ہے، بلکہ وہ لڑنے کی تیاری کرتا ہے۔ اور ریاست وہ کتاب ڈھونڈ رہی ہے جو اس کی مزاحمت میں رہنمائی کرتی ہے۔ وہ لفظ تلاش کرتی ہے جو قبضہ گیری کو چیلنج کرتے ہیں، ان دماغوں کو مایوس کرنے کی کوشش کرتی ہے جن تک وہ الفاظ پہنچتے ہیں۔

یہی ایک سوال ہے جس کے جواب میں ریاست ہاتھ میں جبر، قتل و غارت لیے کھڑی ہے۔ آج نوجوان صرف اپنے وجود اور اپنے وسائل کو تسلیم کرنے کا حق مانگ رہا ہے، لیکن کل ایسا نہیں ہوگا۔ کل وہ پہاڑوں پر چڑھ جائے گا، اور یہ پہاڑ اور جنگل اس کے محافظ بن جائیں گے۔ اس وقت اس کے پاس صرف کتاب نہیں ہوگی۔

***

Share this content: