کشمیر میں پہلی طویل المدتی پہیہ جام شٹر ڈائون ہڑتال نویں روز بھی جاری

رپورٹ: فرحان طارق

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پہلی طویل المدتی پہیہ جام شٹر ڈائون ہڑتال نویں روز میں داخل ہوگئی ہے ۔

دارالحکومت مظفرآباد میں سبزی و فروٹ کی چند دکانیں کھلی ہیں جبکہ باقی کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں۔

9 جون سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر شروع ہونے والی تالہ بند ہڑتال نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ انٹرنیٹ سروس کو بند ہوۓ بارہ روز مکمل ہو چکے ہیں۔

پبلک ٹرنسپورٹ نہ ہونے کے باعث شہریوں کو دشواری کا سامنا ہے تاہم یہ پہیہ جام ٹرانسپورٹرز کی جانب سے رضاکارانہ طور پرکی جارہی ہے۔

راولاکوٹ میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے دیے گے دھرنے جاری ہیں۔ضلع باغ کے مختلف علاقوں سے پٹرول کی قلت کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔

دارالحکومت مظفرآباد میں امن و امان کی صورتحال برقرار ہے ۔

کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا اجلاس دوسرے روز بھی جاری رہا۔اجلاس میں ممبر اسمبلی کوثر تقدیس گیلانی کی جانب سے ایک قراداد پیش کی گی جس میں کہا گیا ہے کہ آزاد کشمیر میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا تعلق اہل سعادات سے ہے جن میں سے اکثریت سفید پوش افراد پر مشتمل ہے اسلام میں اہل سعادات سے تعلق رکھنے والے نادارا افراد کو زکوت فنڈ سے مالی امداد نہیں کی جا سکتی راقمہ اہل سعادات نادار افراد کی مالی معاونت کے سلسلے میں کافی عرصے سے کام کر رہی ہیں اورجلد خمس بل اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

دوسری جانب سابق اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد نے تصدیق کی ہے کہ دو روز قبل مظفرآباد نلوچی سے گرفتار ہونے والی خواتین کو گزشتہ رات رہا کر دیا گیا ہے۔

مظفرآباد میں کئی روز سے دفع 144 کا نفاذ ہے مگر امید واران اسمبلی اپنے درجنوں کارکنان کے ساتھ کاغذات نامزدگی جمع کروا رہے ہیں۔ اس پر وزیر قانون میاں عبدالوحید نے موقف اپنایا کہ قانون سب کے لیے ہے قانون کا احترام سب پر لازم ہے ۔

خطے کی اسمبلی میں خواتین کی نمائندگی کرنے والی ممبران اسمبلی نے راولاکوٹ دھرنے میں موجود سینکڑوں خواتین کی موجودگی کے سوال پر میڈیا سے بات نہ کرتے ہوئے معذرت کر لی۔ کشمیر آفئیرز کی وزیر نبیلہ ایوب سے جب پوچھا گیا کہ راولاکوٹ دھرنا میں خواتین کی موجودگی کو کس نظر سے دیکھتی ہیں تو انکا کہنا تھا کہ اللہ رحم کرے گا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سینٹرل بار ایسو ایشن وفد کی جیک کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کے بعد سینٹرل بار کے صدر راجہ ضیغم افتخار کی سینٹرل پریس کلب میں پریس کانفرنس کی۔

راجہ ضیغم نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے زمہ داران کے ساتھ طویل نشست ہوئی۔

انھوں نے اپنی طرف سے حالات بتائے کہ وہاں کیا صورتحال رہی۔کمیٹی کے رہنمائوں کی جانب سے ہمیں مثبت رویہ دیکھنے کو ملا۔ بہت ساری ایسی چیزیں تھیں جس پر انھوں نے ہمیں لچک بھی دکھائی ۔جو انھوں نے کچھ ڈیمانڈذ دیں ان میں پانچ سے پہلے جو حالات تھے ایکشن کمیٹی کو اس حال میں کیا جائے ۔

اس دوران جتنے نوٹیفکشن کیے گےانھیں منسوخ کیا جائے ۔حکومت کالعدم تنظیم کا نوٹیفکشن واپس لے۔

راجہ ضیغم نے کہا کہ ہم نے جو چیزیں محسوس کیں وہ بھی چیزیں مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔

Share this content: