کشمیر میں غذائی اشیا لے جانے پر پابندی ،پولیس نے متعدد مسافر سامان سمیت روک لئے

راولاکوٹ / کاشگل نیوز

پتن کے قریب قائم پنجاب پولیس کے ایک ناکے پر کشمیر جانے والے مسافروں کو خوراک، ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ ساتھ لے جانے سے روکنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ایک عینی شاہد کے مطابق، جو اس وقت موقع پر موجود ہے، راولپنڈی سے اپنے گھر کشمیر جانے والے متعدد مسافروں کو ناکے پر روک کر بتایا گیا کہ وہ کسی قسم کا سامان ساتھ نہیں لے جا سکتے۔

ذرائع کے مطابق جب مسافروں نے اہلکاروں سے اس پابندی کے حوالے سے تحریری حکم نامہ یا نوٹیفکیشن طلب کیا تو اہلکاروں نے مبینہ طور پر جواب دیا کہ انہیں صرف فون کال کے ذریعے ہدایات موصول ہوئی ہیں اور ان کے پاس کوئی تحریری نوٹیفکیشن موجود نہیں۔

عینی شاہد نے مزید بتایا کہ ایک مسافر کے پاس موجود ایک درجن کیلے بھی ضبط کرنے یا پھینکنے کا کہا گیا اور اسے بتایا گیا کہ اگر کشمیر جانا ہے تو بغیر سامان کے جانا ہوگا۔ اسی طرح ایک دوسری گاڑی، جس میں کچھ ادویات موجود تھیں، کو بھی روک لیا گیا اور مسافروں کو سامان کے بغیر سفر جاری رکھنے کا کہا گیا۔

واقعے کے بعد مسافروں میں تشویش پائی جا رہی ہے جبکہ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ اگر کسی قسم کی پابندی عائد کی گئی ہے تو اس کے متعلق باقاعدہ سرکاری نوٹیفکیشن جاری کیا جانا چاہیے۔ تاحال متعلقہ حکام کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو فوٹیج میں ایک ایس ایچ او مسافر خواتین کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک ،گالم گلوچ کرکے ان کے اشیائے ضروریہ کو جو اپنے گھر کے لئے خرید لائے ہیں کو ضبط کرکے انہیں خالی ہاتھ سفر کرنے کےلئے مجبور کر رہے ہیں۔

Share this content: