امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تصدیق کے ایک گھنٹے بعد وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کی یادداشت پر دستخط کرنے کی ایک ویڈیو جاری کی، جو ورسائی کے محل میں کھانے کی میز پر ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
ویڈیو میں فرانسیسی صدر بھی صدر ٹرمپ کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں، صدر ٹرمپ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی طرف سے دیے گئے کاغذ پر دستخط کر رہے ہیں۔
اس ویڈیو کی دلچسپ بات یہ ہے کہ کیمرہ مفاہمت کی یادداشت کے فارسی ورژن پر دستخط کرنے کے لمحے کو نمایاں کرتا نظر آتا ہے اور امریکی صدر کے ہاتھ کو زوم کرتا ہے۔
چند منٹ بعد، ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے مسعود پیزشکیان کی ایک تصویر شائع کی، جس میں ایرانی صدر نے کیمرے کے سامنے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جس کے ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط دکھائی دے رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کر دیتے ہیں۔ اس معاہدے کو 14 نکاتی ’مفاہمتی یادداشت‘ کہا گیا ہے۔
دونوں ممالک نے 60 روز کے اندر حتمی معاہدے پر بات چیت کا اعلان کیا ہے، تاہم اس میعاد میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
لبنان سمیت تمام محازوں پر جنگ بندی: معاہدے کے پہلے پیراگراف میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، ایران اور اتحادی لبنان سمیت ’تمام محاذوں‘ پر فوجی کارروائیوں کو ’فوری اور مستقل‘ ختم کرنے کا اعلان کریں گے۔
ایک دوسرے کی خود مختاری کا احترام: امریکہ اور ایران ’ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے‘ اور فریقین کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں گے۔
60 دن میں حتمی معاہدہ: دستاویز کے تیسرے نکتے کے مطابق، امریکہ اور ایران 60 روز میں بات چیت اور حتمی معاہدے کو حاصل کرنے کا عہد کریں گے، اس ٹائم لائن کو باہمی رضامندی سے بڑھایا جا سکتا ہے۔ 60 روز کا آغاز دونوں ممالک کے رہنماؤں کے باضابطہ طور پر مفاہمت نامے پر دستخط کرنے کے بعد شروع ہوں گے۔
امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ: چوتھے نکتے میں کہا گیا ہے کہ ایک بار مفاہمت نامے پر دستخط ہونے کے بعد، امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی اور ایرانی بندرگاہوں پر موجود ’کسی قسم‘ کی رکاوٹ کو ہٹانا شروع کر دے گا۔ حتمی معاہدے پر دستخط ہونے کے 30 روز کے اندر امریکہ نے ایران کے اطراف سے امریکی افواج کو ہٹانے کا وعدہ کیا ہے۔ عملی طور پر، اس کا مطلب ہے کہ امریکی فوج 28 فروری کو لڑائی شروع ہونے سے پہلے اپنی پوزیشن پر واپس آجائے گی۔
آبنائے ہرمز کی بحالی: معاہدے کے مطابق یہ ناکہ بندی 30 دن کے اندر مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ اس دوران امریکہ ایرانی بندرگاہوں کے ذریعے جتنے بحری جہازوں کو جانے کی اجازت دیتا ہے وہ آبنائے ہرمز میں ایران کی طرف سے بحال ہونے والی ٹریفک کے تناسب سے ہو گا۔
معاہدے کے مطابق ایران آبنائے کے ذریعے تجارتی جہازوں کو محفوظ گزرنے کی اجازت دینے کے لیے ’اپنی بہترین کوششوں کا استعمال کرتے ہوئے انتظامات کرے گا۔‘
جنگ شروع ہونے اور آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے بعد سے یہ امریکہ کا ایک اہم مقصد رہا ہے۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ تکنیکی اور فوجی ’رکاوٹوں‘ کو دور کرنے اور بارودی سرنگیں ہٹانے کے آپریشن کرنے کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹریفک فوری طور پر بحال ہو جائے گی۔
ایران کی تعمیر نو کے لیے رقم: ایم او یو کے چھٹے نکتے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور علاقائی شراکت دار ایران میں تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر مالیت کا ایک منصوبہ تیار کریں گے۔
پابندیوں کا خاتمہ: امریکہ اس بات کا پابند ہوگا کہ ایران پر عائد تمام اقسام کی پابندیاں ختم کی جائیں، جس کا شیڈول بعد میں طے کیا جائے گا۔
جوہری ہتھیاروں کی ممانعت: دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور ایران اپنے افزودہ جوہری مواد کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں ’غیر مؤثر’ کرنے پر آمادہ ہوگا۔
’سٹیٹس کو:‘ معاہدے کے نویں اور 10 ویں نکتے میں کہا گیا ہے کہ افزودہ یورینیم کے معاملے سے نمٹنے تک ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ’سٹیٹس کو‘ برقرار رہے گا۔
عملی طور پر اس کا مطلب ہے کہ امریکہ نئی پابندیاں نہیں لگائے گا۔ اس دوران، یہ تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور دیگر متعلقہ خدمات، جیسے بینکنگ لین دین اور نقل و حمل کے لیے ایران کو چھوٹ دے گا۔
یہ نکتہ مذاکرات کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ رہا ہے۔ ایران نے طویل عرصے سے اصرار کیا تھا کہ اس کے منجمد اثاثے جاری کیے جائیں۔
ایران کے منجمد اثاثے: دستاویز کا 11 ویں نکتے کے مطابق ایم او یو پر دستخط ہونے کے بعد امریکہ ’مکمل طور پر منجمد یا محدود فنڈز فراہم کرنے کا عہد کرتا ہے‘ اور اس طریقہ کار پر بات چیت کے دوران اتفاق کیا جائے گا۔
ایک امریکی اہلکار نے بدھ کے روز صحافیوں کو بتایا کہ کچھ اثاثے جاری کیے جائیں گے جب کہ مفاہمت نامے کے بعد کی بات چیت جاری رہے گی جب ایران معاہدے کے پہلوؤں کی تعمیل کرتا ہے، جیسے کہ اس کے انتہائی افزودہ یورینیم سے نمٹنے کے لیے آغاز کرنا۔
دیگر تین نکات: دستاویز کے آخری چند نکات طے پا جانے والے نکات کی مانیٹرنگ اور اور حتمی معاہدے سے متعلق ہیں۔ ان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران مفاہمت نامے کے نفاذ اور مستقبل کے معاہدے کی تعمیل کی نگرانی کے لیے ایک میکنزم قائم کریں گے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کی عملی شکل کیسے ہو گی۔
آخر میں میں کہا گیا ہے کہ حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔
Share this content:


