باغ: عوامی تحریک کے نمایاں رہنما الیاس کشمیری کا کاروبار بھی سیل، لوگوں میں شدید تشویش

باغ / کاشگل نیوز

پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں جاری منظم عوامی تحریک کے خلاف ریاست پاکستان کی جانب سے انتظامی و انتقامی کارروائیوں کے تسلسل میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں تحریک کے سرگرم رہنما اور جموں و کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی (جے کے پی این پی) کے سیکریٹری جنرل الیاس کشمیری کے کاروباری مرکز کو سرکاری حکام نے سیل کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، حکام نے ضلع باغ میں واقع ان کے تجارتی مرکز پر اچانک کارروائی کرتے ہوئے اسے بند کر کے سیل لگا دی ہے۔ الیاس کشمیری موجودہ عوامی حقوق کی تحریک کے نمایاں رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جو عوامی مطالبات کو اجاگر کرنے اور احتجاجی سرگرمیوں کو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

سیاسی و مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ الیاس کشمیری کے کاروبار پر ہونے والی یہ حالیہ کارروائی دراصل اسی سلسلے کی کڑی ہے جس کے تحت ضلع باغ میں انتظامیہ نے عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ متعدد دیگر متحرک رہنماؤں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ اس سے قبل، تحریک میں سرگرم کردار ادا کرنے والے رہنماؤں عابد شاہین، افتخار زمان، اور عثمان کاشر سمیت دیگر افراد کی املاک کو بھی انتظامی کارروائی کے تحت سیل کیا جا چکا ہے، جس کی خبریں پہلے ہی منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔

اس تازہ ترین اقدام کے بعد خطے کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں تشویش کی لہر مزید دوڑ گئی ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی، قوم پرست جماعتوں اور ان کے حامیوں نے اس عمل کو سیاسی سرگرمیوں، اختلافی آوازوں اور پرامن احتجاج کو دبانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ناقدین کا الزام ہے کہ حکومت اور عسکری اسٹیبلشمنٹ تحریک کی بڑھتی ہوئی عوامی قوت کو سبوتاژ کرنے کے لیے رہنماؤں اور کارکنوں کے روزگار اور جائیدادوں کو نشانہ بنا کر ان پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

دوسری جانب، الیاس کشمیری کا کاروبار سیل کیے جانے یا دیگر رہنماؤں کی املاک کو مہر بند کرنے کی قانونی بنیادوں سے متعلق انتظامیہ اور متعلقہ سرکاری اداروں کی طرف سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف، وضاحت یا تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور تحریک کے دیگر ارکان کے خلاف مزید اقدامات بھی متوقع ہیں۔

عوامی، سیاسی اور حقوقِ انسانی کے حلقوں نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی کارروائی کو سیاسی انتقام کا رنگ دینے کے بجائے قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق شفاف انداز میں انجام دیا جائے، اور تمام متاثرہ رہنماؤں کو اپنا قانونی مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع فراہم کیا جائے۔

Share this content: