باغ/ کاشگل نیوز
پاکستان زیر انتظام کشمیر میں بدترین ریاستی کریک ڈائون اور انتقامی کارروائیاں جاری ہیں ۔عوامی تحریک کے متحرک اور سرگرم رہنمائوں کے کاروباری مراکز،گھر ،جائیداداور دیگر املاک کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بناکر سیل کرنے کے بعد علمی مراکز کو بھی سیل کیا جارہا ہے۔
کاشگل نیوز نامہ نگارکے مطابق باغ میں سرکاری حکام نے جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی (جے کے پی این پی) کے زیرِ اہتمام قائم عوامی لائبریری کو بھی سیل کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ اقدام جاری عوامی تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن اور تحریک کو کچلنے کی کارروائیوں کے سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
مقامی افراد کے مطابق یہ لائبریری گزشتہ کئی برسوں سے علاقے میں علمی، ادبی اور تعلیمی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز تھی، جہاں روزانہ سینکڑوں طلبہ، نوجوان، محققین اور عام شہری مطالعے اور تحقیق کے لیے آتے تھے۔ لائبریری میں مختلف موضوعات پر کتب اور مطالعاتی مواد دستیاب تھا، جس سے علاقے کے نوجوانوں کی علمی و فکری تربیت میں مدد ملتی تھی۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ عوامی تحریک کو دبانے کے لیے ایک ایسے ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے جو براہِ راست تعلیمی اور فکری سرگرمیوں سے وابستہ تھا۔ لائبریری کی بندش سے نہ صرف طلبہ اور نوجوان متاثر ہوں گے بلکہ علاقے میں علمی و ادبی سرگرمیوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں عوامی حقوق کی تحریک سے وابستہ متعدد افراد، کاروباروں اور اداروں کے خلاف کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ناقدین کے مطابق عوامی تحریک کو کچلنے کے سلسلے میں لائبریری کو سیل کرنا اظہارِ رائے، علمی سرگرمیوں اور سماجی شعور کے مراکز کو محدود کرنے کے مترادف ہے، جبکہ حکام کی جانب سے اس اقدام کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
Share this content:


