کشمیر کی بدترین کریک ڈائون اور کشیدہ صورتحال کی آڑ میں انتخابی عمل تیز

رپورٹ : فرحان طارق

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بدترین کریک ڈائون اور کشیدہ صورتحال کی آڑ میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے انتخابی عمل کو تیز کردیا ہے ۔

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر جاری ہڑتال کے درمیان اس خطے میں عام انتخابات میں حصے لینے کے لیے اٹھارہ جون تک 516 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ۔

کشمیر میں عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہو چکا ہے اور عام انتخابات 27 جولائی کو ہوں گےجب کہ کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی آخری تاریخ 19 جون تھی اس کی معیاد 23 جون شام پانچ بجے تک بڑھا دی گی ہے۔

الیکشن کمیشن کے سیکر ٹری راجہ شکیل نے کہا ہے کہ مظفرآباد ڈویزن میں113 امیدواروں نےکاغذات نامزدگی جمع کرواۓ جبکہ میرپور ڈویزن میں 181 جبکہ پونچھ ڈویزن میں 108 امید واروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے

پاکستان میں مقیم مہاجرین کی نشستوں پر 114 امیدواران نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔

مظفرآباد میں بعض امیدوار اپنے درجنوں حمایتوں کے ساتھ کاغذات نامزدگی جمع کروانے آئے حالانکہ مظفرآباد شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے جس کے تحت چار یا چار سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہے۔

یہ کاغذات نامزدگی ایک ایسے مرحلے پر جمع کروائے گے جب خطے میں حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) کی کال پر ویل جام اور تالا بند ہڑتال جاری ہے۔

جیک کی کال پر یہ ہڑتال آزاد کشمیر اسمبلی میں بارہ مہاجرین نشستوں کے خاتمے اور دیگر مطالبات منوانے کے لیے ہو رہی ہے۔

اس دوران کوٹلی اور راولاکوٹ شہروں میں پر تشد واقعات بھی ہوئے۔ حکام کے مطابق ان واقعات میں 18 مظاہرین یا عام شہری ہلاک جبکہ 3 پولیس والے اور ایک رینجر کا اہلکار ہلاک ہوئے۔

Share this content: