کشمیر میں بدترین ناکہ بندی: 171 افراد لاپتہ، اشیائے خوردونوش کی سپلائی پر پابندی، شدید فاقہ کشی کی نوبت

پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں حکومت اور پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری حالیہ کریک ڈاؤن اور مکمل ناکہ بندی کے باعث صورتحال انسانی المیے میں تبدیل ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

خطے میں دسویں روز بھی پہیہ جام اور تالا بند ہڑتال جاری ہے، جبکہ داخلی راستوں کی بندش سے اب پورے خطے میں شدید غذائی قلت پیدا ہو چکی ہے۔

عینی شاہدین اور مقامی ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، پاکستانی فورسز نے کشمیر کے تمام داخلی و خارجی راستوں (Entry Points) کی سخت ناکہ بندی کر رکھی ہے اور خطے کے اندر اشیائے خوردونوش اور ضروری سامان لے جانے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انٹری پوائنٹس پر تعینات اہلکار نہ صرف مال بردار گاڑیوں کو روک رہے ہیں، بلکہ مختلف شہروں سے آنے والے مسافروں کی گاڑیوں کی تلاشی لے کر ان کے پاس موجود کھانے پینے کے سامان کو بھی ضائع کر رہے ہیں تاکہ کوئی بھی خوراک اندر منتقل نہ ہو سکے۔

سپلائی لائنز کی اس دانستہ بندش کے نتیجے میں بازاروں سے آٹا، گھی اور دیگر بنیادی ضرورت کی اشیاء غائب ہو چکی ہیں، جس سے خطے میں شدید فاقہ کشی کی نوبت آ گئی ہے۔

کریک ڈاؤن کے دوران جہاں ایک طرف سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، وہیں 171 افراد کی جبری گمشدگی (Enforced Disappearances) رپورٹ ہوئی ہے۔ ان لاپتہ افراد کے ٹھکانوں یا خیریت کے حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں، جس کے باعث ان کے اہلِ خانہ شدید کرب اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔

ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ خطے میں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل مواصلاتی خدمات کو بند ہوئے آج 13 دن مکمل ہو چکے ہیں۔ اس طویل مواصلاتی بلیک آؤٹ کے باعث جہاں مقامی آبادی بیرونی دنیا سے کٹ کر رہ گئی ہے، وہیں لاپتہ افراد کے بارے میں درست معلومات کی فراہمی اور زمینی حقائق کو دنیا کے سامنے لانے میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی تنظیم "جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی” کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کمیٹی سے وابستہ 150 سے زائد سرگرم رہنماؤں اور کارکنوں کے نام فورتھ شیڈول (Fourth Schedule) میں شامل کر دیے گئے ہیں۔ حکومتی احکامات کے تحت ان تمام افراد کے قومی شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور بینک اکاؤنٹس کو فوری طور پر منجمد کر دیا گیا ہے۔

مظاہرین اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامیوں کو شدید انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے۔ متعدد مقامی رہنماؤں کی ذاتی املاک اور تجارتی مراکز کو مہر بند (سیل) کر دیا گیا ہے اور ان کے خاندانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، کمیٹی کے نظریات سے وابستگی رکھنے والے افراد پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اس تحریک سے باقاعدہ طور پر اظہارِ لاتعلقی کریں۔

واضح رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر یہ احتجاج آزاد کشمیر اسمبلی میں 12 مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے اور دیگر معاشی و سیاسی مطالبات کے حق میں کیا جا رہا ہے۔ اس بحران کے دوران کوٹلی اور راولاکوٹ میں ہونے والے پرتشدد واقعات میں اب تک سرکاری حکام کے مطابق 18 عام شہری، 3 پولیس اہلکار اور رینجرز کا 1 اہلکار ہلاک ہو چکا ہے، جبکہ آزاد اور غیر جانبدار ذرائع ہلاکتوں کی اس مجموعی تعداد کو سرکاری دعوے سے دوگنا بتا رہے ہیں۔

Share this content: