تحریر: خواجہ کبیر احمد
گزشتہ تین برسوں سے زائد عرصے سے پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے عوامی حقوق کے لیے ایک ایسی تحریک چلائی ہے جسے اس کے حامی ایک مکمل پرامن، آئینی اور عوامی جدوجہد قرار دیتے ہیں۔ اس تحریک کے دوران مختلف اوقات میں حکومت پاکستان اور حکومت آزاد جموں و کشمیر کے ساتھ مذاکرات بھی ہوئے، اور مطالبات کو اصولی طور پر تسلیم بھی کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس تحریک کو عوامی حقوق کی ایک نمایاں اور مؤثر آواز ہی نہیں بلکہ عوام جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو اپنے ترجمان کے طور پر دیکھتے ہیں
ایسے حالات میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینا، اس کے کارکنوں کے خلاف مختلف نوٹیفیکیشنز جاری کرنا اور بیشمار افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کرنا ایک ایسا فیصلہ ہے جس نے ریاستی عوام میں شدید تشویش کو جنم دیا ہے۔ اس اقدام پر بنیادی سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ جب اس تحریک کا اعلان شدہ مقصد عوامی حقوق کی جدوجہد ،حق ملکیت و حق حکمرانی کا حصول ،آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عوامی حقوق کا تحفظ تھا، تو پھر اسی تحریک کو سخت قانونی اقدامات کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟
کسی بھی جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے، احتجاج اور عوامی مطالبات کو ریاستی طاقت کے بجائے آئینی اور سیاسی ذرائع سے حل کیا جاتا ہے۔ اگر کسی تحریک کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے تو اس کے لیے مضبوط قانونی بنیاد، شفاف شواہد اور عدالتی جانچ کی مکمل گنجائش ہونا ضروری ہے۔ بصورت دیگر ایسے اقدامات عوام میں بے اعتمادی اور سیاسی کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ تحریک کسی مخصوص سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ عام شہریوں کے بنیادی معاشی اور شہری حقوق کی نمائندہ تحریک ہے، جس نے روایتی سیاست سے ہٹ کر عوام کو منظم کیا۔ ان کے نزدیک اس تحریک کے خلاف سخت اقدامات عوامی آواز کو کچلنے کے مترادف ہیں۔
اس صورتِ حال میں مناسب راستہ مزید تصادم نہیں بلکہ آئین، قانون اور مذاکرات کی طرف واپسی ہے۔ واضح رہے کہ حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ کو مختلف مراحل میں تسلیم کیا ہوا ہے تو اب اس پر مکمل اور دیانت دارانہ عمل درآمد کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور مسائل کا پائیدار حل نکل سکے۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف جاری تمام نوٹیفیکیشنز فوری طور پر واپس لیے جائیں، کالعدم قرار دینے اور فورتھ شیڈول سے متعلق اقدامات منسوخ کیے جائیں اور تمام معاملات کو طے شدہ معائدے کے مطابق نمٹایا جائے۔ حکومت اپنے تسلیم شدہ چارٹر آف ڈیمانڈ پر بلا تاخیر عمل درآمد کرے اور اختلافات کے حل کے لیے بامعنی مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔
عوامی حقوق، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک مضبوط اور پرامن معاشرے کی بنیاد ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں بلکہ جمہوری عمل کا حصہ سمجھا جائے اور عوامی آواز کو دبانے کے بجائے سنا جائے۔
ریاست ہوگی تو سیاست ہوگی، اور عوام ہوں گے تو حکومت قائم رہے گی۔ یہ اصول اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اقتدار کی اصل بنیاد عوامی اعتماد ہے۔
عوام اپنے ان مطالبات پر عمل درآمد چاہتی ہے جو حکومت آزاد جموں و کشمیر ، حکومت پاکستان اور جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والے معاہدات میں پہلے ہی تسلیم کیے جا چکے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان معاہدات پر سنجیدگی سے عمل درآمد کیا جائے تاکہ اعتماد کا بحران مزید گہرا نہ ہو۔
یہ بھی ایک عمومی عوامی تاثر ہے کہ سخت انتظامی اقدامات، پابندیوں اور گرفتاریوں جیسے فیصلے مسائل کو حل کرنے کے بجائے انہیں مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ طاقت کے بجائے مکالمے کے ذریعے آگے بڑھا جائے۔
پُرامن سیاسی اور عوامی تحریکوں کے مسائل کا حل ہمیشہ گفت و شنید اور آئینی راستوں سے ہی نکلتا ہے۔ اسی لیے عوامی ایکشن کمیٹی کے حامی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ وہ پرامن تھے، ہیں اور رہیں گے، اور اپنے جائز اور تسلیم شدہ مطالبات کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔
٭٭٭
Share this content:


