خون رنگ لائے گا، انقلاب آئے گا

محمد خورشید بیگ

لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے وہاں تاریخ خاموش نہیں رہتی۔” راولاکوٹ کی وادیوں میں کبھی بچوں کی ہنسی گونجتی تھی ،سبزہ زاروں پر بہار رقص کرتی تھی، پہاڑوں سے آزادی کی خوشبو آتی تھی۔ مگر آج انہی میدانوں پر خون کے دھبے ہیں، سسکیوں کی آواز ہے اور ماؤں کی آنکھوں میں ایسا درد ہے جسے لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں ہے۔

میرے شہر کے سبزہ زاروں کو نہتے شہریوں کے خون سے سرخ کر دیا گیا ہے، پاکستان کے زیر انتظام ریاست جموں کشمیر کے عوام نے اپنے مطالبات کے لیے لہو دے کر قربانیوں کی لازوال داستان رقم کی ہے، وہ بنیادی عوامی حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں مگر اس آواز کا جواب گولیوں سے دیا گیا ہے۔

یہ سوال صرف ایک خطے کا نہیں پوری انسانیت کا سوال بن جاتا ہے کہ پاکستانی فورسز کی جانب سے آخر بنیادی حقوق مانگنے والوں پر گولیاں کیوں ۔ ؟ یہ کیسا نظام ہے جہاں سوال پوچھنا جرم بن جائے ۔؟ اختلاف رائے کو بغاوت سمجھ لیا جائے ۔؟ اور عوام کے مطالبات کا جواب مذاکرات کے بجائے طاقت سے دیا جائے ۔ ؟

فیض احمد فیض نے شاید ایسے ہی لمحوں کے لیے کہا تھا "جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے،یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی تو کوئی بات نہیں۔”

بھمبر سے لے کر تاؤ بٹ تک ایک ہی صدا سنائی دیتی ہے "خون رنگ لائے گا، انقلاب آئے گا۔” یہ صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ان لوگوں کے دل کی آواز ہے جو سمجھتے ہیں کہ قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتی ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کی عمر ہمیشہ مختصر رہی ہے جبکہ حق کی آواز وقت کے ساتھ مزید طاقتور ہوتی گئی ہے لیکن ایک سوال آج بھی فضا میں معلق ہے۔

اس خون کا حساب کون دے گا ۔؟

کون ان ماؤں کے آنسوؤں کا قرض چکائے گا جن کے بیٹے واپس نہیں آئے ۔؟ کون ان بچوں کو جواب دے گا جو اپنے باپ کا انتظار کرتے رہے۔ ؟ کون ان گھروں کی خاموشی کا ذمہ دار ہوگا جہاں کبھی قہقہے گونجتے تھے ۔؟

علامہ اقبال نے کہا تھا "جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی،اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو۔”

جب انصاف کے دروازے بند ہو جائیں تو سوال جنم لیتے ہیں اور جب سوالوں کا جواب نہ ملے تو تاریخ خود گواہی دینے لگتی ہے طاقت کے زور پر وقتی خاموشی تو مسلط کی جا سکتی ہے مگر دلوں میں اٹھنے والی صداؤں کو ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کیا جا سکتا ہے اگر عوام کے مطالبات واقعی آئینی اور بنیادی حقوق سے متعلق ہیں تو ان کا حل طاقت نہیں بلکہ مکالمہ قانون اور انصاف ہے وقت کا پہیہ ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا ہے اقتدار بدلتے ہیں حکومتیں بدلتی ہیں مگر تاریخ کے صفحات پر لکھا ہوا خون کبھی نہیں سوکھتا ہے۔

آخر میں احمد فراز کے یہ اشعار دل پر دستک دیتے ہیں "سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں ۔ یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں۔”

اور اگر بات چیت کے دروازے بند کر دیے جائیں تو پھر صرف خاموشی نہیں بولتی ہے بلکہ تاریخ بولتی ہے، ضمیر بولتا ہے اور شہیدوں کا لہو بولتا ہے۔خون کا ہر قطرہ ایک سوال ہے اور ہر سوال انصاف کا منتظر ہے ۔میرے رب العالمین کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ہے وہ انصاف کرے گا ضرور کرے گا جس پر کامل یقین ہے ۔

٭٭٭

Share this content: