فرحان طارق
رات کی خاموشی میں ایک بوڑھا درویش شہر کے چوک میں بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے دو آئینے رکھے تھے۔ ایک آئینہ چمکتا تھا اور دوسرا گرد سے اٹا ہوا۔ لوگ آتے، چمکتے آئینے میں خود کو دیکھتے اور خوش ہو کر چلے جاتے۔ مگر درویش ہر آنے والے سے کہتا:
"ذرا دوسرے آئینے میں بھی دیکھو، شاید اصل چہرہ وہاں نظر آ جائے۔”
تین برس سے اس خطے میں احتجاج، لانگ مارچ، شٹر ڈاؤن اور سیاسی کشیدگی جاری رہی۔ ہر اختلاف کرنے والے پر کبھی "ایجنٹ” اور کبھی "علیحدگی پسند” کا لیبل لگا دیا گیا۔ پھر ایک دن احساس ہوا کہ شاید لفظوں کے معنی وہ نہیں رہے جو لغت میں لکھے ہیں، بلکہ وہ ہو گئے ہیں جو طاقت ور لکھنا چاہتے ہیں۔
یوں محسوس ہونے لگا جیسے ستائیس لاکھ لوگوں کی آواز کو چند خاندانوں کے مفادات کے ترازو میں تولا جا رہا ہو۔ سوال یہ پیدا ہوا کہ اگر اپنے حق، انصاف، روزگار، تعلیم اور بہتر حکمرانی کا مطالبہ کرنا علیحدگی پسندی ہے، تو پھر اتحاد کی تعریف کیا رہ جاتی ہے؟
کہانی کے شہر میں صرف بارہ محلات تھے۔ ان محلوں کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے، مگر صرف اقتدار کے لیے۔ ان کے بچوں کے لیے دنیا کی بہترین درسگاہیں تھیں، جبکہ گلی کے نکڑ پر سرکاری اسکول کی چھت ہر بارش میں ٹپکتی تھی۔ ان کے لیے قانون نرم موم تھا، اور عام آدمی کے لیے پتھر کی دیوار۔
ایک مزدور صبح سے شام تک پسینہ بہاتا، مگر مہینے کے اختتام پر اس کی جیب میں اتنا ہی رہ جاتا کہ اگلے مہینے کی فکر شروع ہو جائے۔ دوسری طرف اقتدار کے ایوانوں میں مراعات، الاؤنس، پروٹوکول اور سہولتوں کی فہرست ہر سال لمبی ہوتی جاتی۔
درویش نے پھر آئینہ اٹھایا اور کہا:
"اصل علیحدگی زمینوں سے نہیں ہوتی، دلوں سے ہوتی ہے۔ جب حکمران اور عوام کے درمیان فاصلے اتنے بڑھ جائیں کہ ایک محلوں میں اور دوسرا بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہا ہو، تو علیحدگی سرحدوں سے پہلے معاشرے میں جنم لیتی ہے۔”
شہر کے لوگ خاموش تھے۔ کسی نے آہستہ سے پوچھا:
"تو پھر علیحدگی پسند کون ہے؟ وہ جو سوال کرتا ہے، یا وہ جو سوال سننے سے انکار کرتا ہے؟”
درویش مسکرایا اور بولا:
"یہ فیصلہ تاریخ کرے گی، مگر یاد رکھو، قومیں اختلاف رائے سے نہیں ٹوٹتیں، ناانصافی سے ٹوٹتی ہیں۔”
اور رات کے آخری پہر دونوں آئینے ایک دوسرے کے سامنے رکھ دیے گئے۔ اب ہر شخص اپنا چہرہ بھی دیکھ سکتا تھا اور اپنا کردار بھی۔
٭٭٭
Share this content:


