لندن میں کشمیریوں کا تاریخی مارچ، آزاد کشمیر میں فوجی آپریشن کی بندش اور کرفیو ختم کرنے کا مطالبہ

پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں جاری عوامی بحران اور جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی تحریک کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے برطانیہ میں مقیم ہزاروں کشمیریوں نے لندن کی سڑکوں پر ایک بہت بڑے اور تاریخی احتجاجی مارچ کا اہتمام کیا۔

مارچ کے دوران مظاہرین نے خطے کی موجودہ صورتحال پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان اور مقتدر حلقوں کو ایک واضح اور دوٹوک پیغام دیا۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ آزاد کشمیر میں جاری فوجی آپریشن کو فوری طور پر بند کیا جائے اور وہاں تعینات پاکستانی فورسز کو علاقے سے واپس بلایا جائے۔

انہوں نے خطے میں جاری طویل مواصلاتی بلیک آؤٹ کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام متاثرہ علاقوں میں انٹرنیٹ، ٹیلیفون اور موبائل سروسز کو بلا تاخیر بحال کرنے پر زور دیا۔

مارچ کے شرکا نے آزاد کشمیر میں خوراک، زندگی بچانے والی ادویات اور دیگر بنیادی اشیاء کی بدترین قلت پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جس نے مقامی آبادی کو فاقہ کشی کی نوبت تک پہنچا دیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ انٹری پوائنٹس پر روکی گئی خوراک اور ادویات کی تمام گاڑیوں کو فوری طور پر اندر جانے کی اجازت دی جائے۔ سیکیورٹی فورسز کے زیرِ قبضہ ہسپتالوں کو فوری طور پر مکمل طور پر عوام کے لیے کھولا جائے۔ متاثرہ علاقوں میں صحت کی سہولیات اور اشیائے خوردونوش کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔

مظاہرین نے حکومت پر زور دیا کہ راولاکوٹ اور دیگر شہروں میں نافذ کردہ کرفیو اور سخت ترین پابندیوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے تاکہ محصور عوام کو ریلیف مل سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا واحد حل یہی ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے تسلیم شدہ ‘چارٹر آف ڈیمانڈ’ (مطالبات کی دستاویز) پر مکمل اور مخلصانہ طور پر عمل درآمد کیا جائے۔

برطانیہ میں ہونے والے اس بڑے عوامی مظاہرے نے ثابت کر دیا ہے کہ آزاد کشمیر کے حقوق کی یہ تحریک اب بین الاقوامی سطح پر تارکینِ وطن (Diaspora) کی ایک مضبوط آواز بن چکی ہے۔

Share this content: