کشمیر میں زیرِ حراست افراد کی عدالتوں میں عدم پیشی، سیاسی کارکنان کے تحفظات میں اضافہ

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 5 جون کو ریاستی کریک ڈاؤن اور بعد ازاں مختلف علاقوں میں کیے گئے چھاپوں کے دوران جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سینکڑوں کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔ سیاسی کارکنوں کے مطابق زیر حراست افراد میں طلبہ، سیاسی کارکن، صحافی اور تنظیم کے کئی کور ممبران بھی شامل ہیں۔

سیاسی کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ متعدد افراد کو حراست میں لیے جانے کے کئی ہفتے گزر جانے کے باوجود انہیں کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کے اہل خانہ کو ان کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔

کارکنوں کا کہنا ہے کہ آئینِ پاکستان اور متعلقہ قانونی تقاضوں کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد کو مقررہ مدت کے اندر مجاز عدالت کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر کسی شخص پر کوئی الزام ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی شفاف انداز میں ہونی چاہیے۔

سیاسی کارکنوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے انہیں حقوق کے مطالبات پر "انڈین ایجنٹ” قرار دیا جاتا ہے، جبکہ ان کا مؤقف ہے کہ وہ پرامن سیاسی جدوجہد کر رہے تھے۔ ان کا کہناہے کہ متعدد افراد کو حراست میں لینے کے بعد ان کے اہل خانہ سے ملاقات تک کی اجازت نہیں دی گئی اور ان کی موجودگی کے بارے میں بھی معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔

اس حوالے سے حکومتی یا متعلقہ سکیورٹی اداروں کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔ اگر حکومت یا متعلقہ ادارے اس معاملے پر اپنا ردِعمل جاری کرتے ہیں تو اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

Share this content: