اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ ایران میں 19 مارچ سے اب تک قومی سلامتی سے متعلق الزامات کے تحت کم از کم 56 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔
انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ سرکاری معلومات کے مطابق پھانسی پانے والوں میں 27 افراد ایسے تھے جن کے مقدمات جنوری میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے متعلق تھے۔
وولکر ترک کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد ایران میں سزائے موت سنانے اور ان پر عملدرآمد کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
انھوں نے ایرانی حکام پر زور دیا کہ تمام سزائے موت پر فوری پابندی عائد کی جائے اور بتدریج اس سزا کے مکمل خاتمے کی جانب پیش رفت کی جائے۔
دوسری جانب ایران کی عدلیہ کے سربراہ متعدد مواقع پر استغاثہ کے حکام کو ہدایت دے چکے ہیں کہ جنوری کے احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے افراد اور جنگ کے بعد حراست میں لیے گئے ملزمان کے مقدمات میں فوری کارروائی کی جائے اور قانون کے مطابق سزاؤں پر بلا تاخیر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
Share this content:


