گذشتہ ہفتے پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے کی جانب سے انڈین شہر وارانسی میں واقع گنج شاہد مسجد کے متعلق دئے گئے ایک بیان پر انڈین وزارت خارجہ نے سخت اعتراض درج کیا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پاکستانی صدر کے بیان کو ’احمقانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ’پاکستان کے صدر کے بے بنیاد تبصروں کو انڈیا پوری طرح سے مسترد کرتا ہے۔ ویسے بھی، انھیں انڈیا کے اندرونی معاملات پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘
خیال رہے کہ سنیچر کے روز پاکستانی صدر کے ایکس پر ایک پوسٹ میں انڈیا کے تاریخی مسلم مذہبی مقامات، بشمول وارانسی میں ہزار سال پرانی مسجد گنج شاہد کے انہدام اور دھمکیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔
انھوں نے انڈیا سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے کو کہا اور خبردار کیا کہ یہ انڈیا میں انتشار اور دائمی افراتفری کا سبب بن سکتے ہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے فوری طور پر اقلیتی حقوق اور مشترکہ ثقافتی ورثے کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
اس کے جواب میں انڈین دفتر خارجہ کے ترجمان نے سنیچر کو کہا کہ ’یہ تبصرے اس لیے بھی احمقانہ ہیں کیونکہ انسانی حقوق کے معاملے میں پاکستان کا اپنا ریکارڈ بہت خراب رہا ہے، جس پر دنیا بھر میں بحث ہوتی رہی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’مختلف مذاہب کی اقلیتوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے اور ان پر ظلم کرنے کی پاکستان کی طویل تاریخ ہر کسی کو معلوم ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا ’اس حقیقت کو دیکھتے ہوئے پاکستانی صدر کے تبصرے کو صرف ایک جان بوجھ کر کیا گیا سیاسی حملہ ہی سمجھا جا سکتا ہے۔‘
وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایسے بیانات پاکستان کی شدت پسندی اور نفرت کی قومی پالیسیوں سے متاثر ہیں۔
وارانسی میں کاشی ریلوے سٹیشن کے توسیع اور ترقیاتی منصوبے کے تحت ریلوے انتظامیہ نے سٹیشن کے مرکزی انڑی گیٹ کے قریب واقع گنج شاہدہ مسجد انتظامیہ کو نوٹس جاری کر کے 20 جون تک احاطہ خالی کرنے کی ہدایت دی ہے۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ریلوے اہلکاروں نے جمعرات کو بتایا کہ انھوں نے کاشی ریلوے سٹیشن کے مرکزی داخلی دروازے پر واقع گنج شہیداں مسجد کی دیوار پر ایک نوٹس لگایا ہے۔ اس نوٹس میں سٹیشن کی توسیع کی قانونی کارروائی کے تحت 20 جون تک جگہ خالی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
پی ٹی آئی کے مطابق، کینٹ ریلوے سٹیشن کے سپرٹنڈنٹ ارپِت گپتا نے کہا کہ سٹیشن کی توسیع اور مجوزہ تعمیراتی کاموں کے لیے کاشی ریلوے سٹیشن کے آس پاس کی زمین کو غیر قانونی قبضے سے آزاد کرانا ضروری ہے۔
مسجد انتظامیہ کمیٹی نے اس نوٹس کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور کہا کہ وہ اسے عدالت میں چیلنج کریں گے۔ کمیٹی کے جوائنٹ سیکرٹری ایس ایم یاسین نے بی بی سی ہندی کی نامہ نگار پریرنا کو بتایا، ’یہ مسجد تقریباً ایک ہزار سال پرانی ہے۔ اس کی تعمیر 1034 میں ہوئی تھی۔ اس کا نام گنج شہید اس لیے ہے کیونکہ یہاں جن لوگ کی قبر ہے، ان میں سے کئی آزادی کی لڑائی میں شامل رہے ہیں۔ اس لیے اس کا تاریخی اہمیت بھی ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’ریلوے تو 1887 میں آئی ہے، ان کے نوٹس کا ہم جواب دے رہے ہیں۔ ڈسٹرک مجسٹریٹ وارانسی ستیندر کمار سے بھی یقین دہانی ہوئی ہے۔ تین دن پہلے ہماری ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ انھوں نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ مسجد کو زبردستی نہیں توڑا جائے گا۔‘
مسجد کمیٹی کا کہنا ہے کہ سنہ 1883-84 کے بندوبست کے نقشے اور اس سے پہلے کے نقشوں میں بھی مسجد کا ذکر ہے۔ ان کے مطابق، ’جس مقدمے کے خارج ہونے کی بات نوٹس میں لکھی گئی ہے وہ مسجد کے باہر مشرق کی زمین سے متعلق تھا۔ مسجد سے اس مقدمے کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ نوٹس گمراہ کن ہے۔
Share this content:


